تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 313
اگلے روزے شہادت پر اپریل کو لنڈی کوتل کے شنواری لنڈی کوتل کے شنواری اور آفریدی اور آفریدی سرداروں کے ایک وفد کو دوبارہ سرداروں کے ایک وفد کی ملاقات معزور ہی مشتمل تھا، حضرت مصلح موعود کی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔اور نیٹ پر لیس کے نامہ نگار نے اس وفد کی آمد پر حسب ذیل لفظوں میں خبر دی :- جماعت احمدیہ کی بے مثال شجاعت کا اعتراف پشاور و ر ا پریل - اور نیٹ پر یس کا نامہ نگار رقمطراز ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ سے لنڈی کوتل کے شنواری اور آفریدی سرداروں کے ایک وفد نے ملاقات کی۔آپ نے ان پٹھان سرداروں سے پوچھا کہ وہ ملاقات کرنے کی کیوں تو ہش رکھتے تھے ، انہوں نے جواب میں کہا قادیان کے احمدیوں نے نہایت جانبازی سے اپنے شہر کی حفاظت کی ہم مسلمانوں کے اس بہادر فرقے کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی عقیدت کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے پٹھان سرداروں کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا مسلمان بہادر ہی ہوتے ہیں وہ کبھی بہ دلی نہیں دکھاتے۔پاکستان کی اقتصادی عدالت کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا میرے خیال میں ہندوستان کے مقابلہ میں پاکستان کی اقتصادی حالت بہت بہتر ہے کیونکہ ہمارے وسائل اور ذرائع بہت وسیع ہیں کہ شیر کے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا وہ دن دور نہیں ہیں کہ جب کشمیر پاکستان کا ایک حصہ بن جائے گا۔ابتداء میں انڈین یو میں کشمیر کے معاملہ کو ایک ، آسان کام سمجھتی تھی لیکن اس سلسلہ میں اسے نہایت تلخ تجربہ ہوا ہے مسلمان عوام بالعموم اور قبائلی پٹھان بالخصوص کشمیر کو پاکستان میں شامل کرانے کا نبیر کو پچکے ہیں کیونکہ وہ پاکستان حکومت کو اپنی حکومت سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے علیحدہ تصور نہیں کرتے۔در حقیقت پاکستان کا دارو مدار کشمیر پر ہی ہے۔(او اپی ، آئی) کے الفضل 1- اپریل -