تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 312 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 312

۳۱۲ رہائش کے لئے تشریف لے گئے۔اے هر ماه شهادت / اپریل کو حضرت مصلح موعود کا پیش خون شمال ل کور پشاور میں پہلا پبلک پیچھے بیرون پری دروازہ اپنا وشر میں پاکستانیوں سے کھل کھلی باتیں" کے عنوان سے ایک شاندار لیکچر ہوا۔ہاں اور بیرونی احاطہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔لائوڈ سپیکر کا بھی انتظام تھا اہل پشاور نے نہایت خاموشی سے حضور کی تقریر سنی اور حضور کے خطاب کے دورانی حاضرین پر سناٹا چھا گیا۔اس لیکچر کا لوگوں پر نہایت خوش گوار رو عمل ہوا اور انہوں نے بر ملا ایک دوسرت سے کہا کہ جس شخص کو کافر کہا جاتا تھا اس نے تو آنحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ارشادات پیش کئے۔لے سوار را یا اونو تو تی تری لے گئے جوپاکستان اور تورخم میں ورود مسعود افغانستان کی سرحد پر ایک مشہور جگہ ہے۔مولانا عبد الرحیم صاحب مورد و کے ایک غیر مطبوعہ مکتوب سے اس سفر کے حالات پر مختصر روشنی پڑتی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضور نے اس سفر کے دوران فرمایا چار سو سال ہوئے جب ہمارے باپ دادا اس راستہ سے بر صغیر میں آئے تھے۔تورخم میں جماعت کی طرف سے ایک فوٹو گرافر کا پہلے سے خصوصی انتظام تھا۔حضور نے پیشاؤ کالج سے لے کر لنڈی کو تل کیمپ تک کی مساجد، قلعے اور سٹیشن موٹر سے دیکھے اور اس درد کا اظہار فرمایا کہ حکومت کی امداد کے سوا اس علاقہ کے باشندوں کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔حضور نے تجویز فرمائی کہ ان علاقوں میں انڈسٹری جاری کرنی چاہئیے۔تو رخم سے واپسی پر حضور لنڈی کوتل پہنچے جہاں حضور کے اعزاز میں ایک وسیع اور پر تکلف ضیافت کا اہتمام تھا اور بہت سے سر بر آورد لوگ جن میں پاسپورٹ آفیسر، خیبر کے ایک لیفٹینٹ کرنل اور سوات کے شہزادہ بھی شامل تھے بکثرت مدعو تھے۔لنڈی کوتل سے حضور نمبرور آئے اور مختصر سے قیام کے بعد واپس پشاور میں رونق افروز ہو گئے۔ه الفضل ۸ شهادت / اپریل ۲ ص ۶۱۹۴۸ سے ریکارڈ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ها