تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 299
۲۹۹ نجا یہ کہ کسی ملک سے دوگنی یا تگنی آبادی کو وہاں بسایا جا سکے میں پاکستان کے ہر مسلمان مرد اور عورت کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے یا تو عزت اور فتح کی زندگی بسر کرنی ہے یا عورت اور فخر کی موت اس نے مرنا ہے یہی ایک راستہ ہے جس پر ہر شریف انسان کو چلنا چاہئیے کہ یا وہ دشمن پر فتح پائے یا عزت کی موت مرے۔حید ر الدین میسور کا ایک مسلمان بادشاہ تھا جسے انگریزوں نے بہت بدنام کیا اور اس کے نام پر انہوں نے اپنے کتوں کا ٹیپو نام رکھا۔یہ آخری سلمان بادشاہ تھا جس میں اسلامی غیرت پائی جاتی تھی۔حیدر آباد جو آج کئی قسم کی مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اسنے ہر دفعہ میسور کی اس حکومت کو تباہ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔جب بنگلور پر انگریزوں نے آخری حملہ کیا تو سلطان حید الدین قلعہ کی ایک جانب فصیل کے پاس اپنی فوجوں کو لڑائی کے لئے ترتیب دے رہا تھا کہ ایک جو نیل اس کے پاس بھاگا بھاگا آیا اور اس نے کہا بادشاہ سلامت ! اس وقت کہیں بھاگ جائیے کسی غدار نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا ہے اور انگریزی فوج قلعہ کے اندر داخل ہو کر مارچ کرتی ہوئی آگے بڑھتی چلی آرہی ہے، ابھی کچھ دستے خالی ہیں آپ آسانی سے ان دستوں کے ذریعہ بھاگ سکتے ہیں حید رالدین نے نہایت حقارت کے ساتھ اُس کی طرف دیکھا اور کہا تم کہتے ہو میں بھاگ جاؤں۔یاد رکھو شیر کی دو گھنٹہ کی زندگی گیدڑ کی دو سو سال کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔یہ کہا اور تلوارا اپنے ہاتھ میں لی اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے لڑتا ہوا مارا گیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔تو جرأت اور بہادری ایسی چیز ہے جو دنیا میں انسان کا نام عزت کے ساتھ قائم رکھتی ہے۔تاریخوں میں کبھی تم نے بزدلوں کے قصے بھی پڑھتے ہیں کہ فلاں نے جنگ کے موقع پھر اس اس طرح بز دلی دکھائی کی بھی تم نے بھگوڑوں کے قصے بھی پڑھتے ہیں جن کو تاریخ نے یاد رکھا ہو۔کبھی تم نے کام چوروں کے قتے بھی پڑھتے ہیں۔تاریخ میں بھی لوگوں کو یاد رکھا جاتا ہے وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو قوم کے لئے قربانیاں کرتے اور اپنی جانوں اور بالوں کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔یہ قربانیاں کرنے والے مرد بھی ہوتے ہیں ، عورتیں بھی ہوتی ہیں