تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 295
۲۹۵ کہ اگر تم نے اسلامی احکام پر عمل نہ کیا تو اسلامی کلچر خطرہ میں پڑ جائے گا ؟ اگر آپ لوگ یہاں سے اُٹھنے سے پہلے یہ فیصلہ کرلیں کہ اسلام کے جن احکام پر عمل کرنا آپ کے اپنے بس میں ہے اور جن پر عمل کرنے کے لئے کیسی حکومت کسی قانون اور کسی طاقت کی ضرورت نہیں ان پر فور اعمل کرنا شروع کر دیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ شام سے پہلے پہلے اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی لیکن اگر لوگ منہ سے اسلامی حکومت کا مطالبہ کریں اور عملاً اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرنے میں کوئی حرج نہ بجھیں تو جس طرح کچی اینٹوں کے ایک محل کو پتا نہیں کہا جا سکتا اسی طرح غیر اسلامی اعمال کرنے والے افراد کے مجموعہ کا نام ہر گز اسلامی حکومت نہیں رکھا جا سکتا۔زبان کے مسئلہ پر پاکستان میں جو اختلافات نمودار ہو رہے ہیں ان پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے حضور نے فرمایا یہ مسئلہ بالکل سادہ اور صاف تھا لیکن افسوس ہے کہ خواہ مخواہ اسے بچی پیدہ بنایا جارہا ہے اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ جب پاکستان کے سب صوبوں نے اپنی مرضی سے مل کر اور اکٹھے ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو لازمی بات ہے کہ اس صورت میں کسی ایک صوبے کی زبان سے کام نہیں چل سکتا۔مل کر کام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی زبان ہو جو سب پاکستانی صوبوں کے باشندے جانتے ہوں۔انگریزوں کے عہد میں اس قسم کی مشترکہ زبان کا کام انگریزی سے لیا جاتا تھا اب ان کے جانے کے بعد ہمارے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ انگریزی کی قائم مقام کونسی زبان ہو۔ظاہر ہے کہ چونکہ انگریزی کی نسبت اُردو قرآن مجید کو سمجھنے اور اسلامی ممالک سے اتحاد پیدا کرنے کی زیادہ صلاحیت اپنے اندر رکھتی ہے اس لئے ہمیں اس زبان کو ہی مشترکہ طور پر کام کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئیے۔حضور نے اس امر پر زور دیا کہ یہ سراسر غلط بحث ہے کہ بنگالی کی جگہ اردو کو دی جائے گی یا سندھی کی جگہ اُردو لے لے گی۔کیا انگریزی نے بنگالی یا سندھی کی جگہ لے لی تھی ؟ اصل سوال تو صرف یہ ہے کہ جس طرح پہلے مل کر کام کرنے کے لئے انگریزی سے کام لیا جاتا تھا آپ کونسی زبان سے کام لیا جائے۔حضور نے پاکستان کے دفاع کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ریلوے لائنیں ایسے موقع پر واقع ہیں جو دفاع کے لحاظ سے خطرناک ہیں حضور نے اس سلسلے میں یہ تجویز پیش فرمائی کہ سندھ کے اس پار راولپنڈی سے کراچی تک ایک نئی ریلوے لائن بنائی بھائے جس کے ذریعے خطرہ کے اوقات میں سندھ