تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 294
کے لئے بھی۔۲۹۴ کیا پاکستانی اسلامی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرنے میں سنجیدہ ہیں ؟ حضور نے اس اہم سوال پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا جب ایک فرد کہتا ہے کہ اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئیے تو بالحافظ دیگر وہ یہ کہ رہا ہوتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اسلامی ہوں۔آپ اگر اسلام پر غور کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام کے نزدیک فرد کے اعمال کے تین حصے ہوتے ہیں۔اول خود اس کی ذات سے تعلق رکھنے والے احکام، دوسرے اس کے ہمسایوں اور دوستوں سے تعلق رکھنے والے احکام تیر کے ایسے احکام جن کا تعلق حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ہے۔حکومت سے تعلق رکھنے والے احکام تو فرد کے بس میں نہیں ہیں۔ہمسایوں سے تعلق رکھنے والے احکام پوری طرح نہیں لیکن کسی قدر اس کے بس میں ہیں۔البتہ اس کی ذات سے تعلق رکھنے والے احکام پوری طرح اس کے اختیار میں ہیں۔اب جو مسلمان اسلامی حکومت کا مطالبہ کرتا ہے اس کے مطالبہ کی سنجیدگی کا ثبوت یہی ہو سکتا ہے کہ جو احکام پوری طرح اس کے بس میں ہیں کم از کم ان پر وہ پوری طرح عمل کر کے دکھا دے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ وہ اسلامی حکومت کا مطالبہ کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف سیاسی اغرامن کے ماتحت کسی کو گرانے یا کسی کو بد نام کرنے کے لئے یہ مطالبہ کرتا ہے۔حضور نے فرمایا۔قرآن مجید، احادیث اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل واضح الفاظ میں ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام نے نماز کا حکم دیا ہے پردے کا حکم دیا ہے۔روزہ کا حکم دیا ہے سود کی مخالفت کی ہے اور مرد عورت کے آزادانہ اختلاط کو روکا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں کے مختلف گروہ سود کی ممانعت اور پر دے کے احکام کی کیا حدود سمجھتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمان اپنی اپنی جگہ ان احکام کا جو بھی مفہوم سمجھتے ہیں کیا اس پر وہ عمل کرتے ہیں ؟ اگر وہ ان احکام پر اپنی اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرتے ہیں تو پھر تو بے شک وہ اسلامی حکومت کے قیام کے مطالبہ میں سنجیدہ سمجھے جا سکتے ہیں کیونکہ جن احکام کو پورا کرنا ان کے اختیار میں تھا ان پر انہوں نے عمل کر کے دکھاو یا لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر یقینا وہ اسلامی حکومت کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔حضور نے فرمایا مسلمان ہندو کے مقابلہ پر کہا کرتے تھے کہ اسلامی کلچر خطرہ میں ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی وہ اپنے اپنے بیٹے، اپنے اپنے بھائی اور اپنی اپنی بیوی کو یہ کہنے کے لئے تیار ہیں