تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 13
در و دیوار ، یہاں کے لوگوں اور زبان سے مکمل اجنبیت تھی۔فرانسیسی قوم بہت متعصب، تنگ دل اور شکی واقع ہوئی ہے۔چنانچہ بجائے اس کے کہ اس دوران میں جو ہمیں ملا اجنبیت کی وجہ سے ہمارے ساتھ ہمدردی سے پیش آتا ہماری اجنبی شکلوں اور لباس کی وجہ سے ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھتا۔۔آخر سٹرک سے ہٹ کر ایک ہوٹل میں جانے کا اتفاق ہوا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹھرنے کے لئے جگہ مل گئی۔۱۸ مئی۔پیرس اور فرانس میں ہمارا پہلا دن تھا۔فی الحال دو کام مد نظر تھے رہائش کا کوئی مستقل انتظام اور فرانسیسی زبان سیکھنے کے لئے معلومات کا حاصل کرنا سب سے پہلے برطانوی سفارت خانہ میں گیا رہائش کے لئے امداد کے سلسلہ میں انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ پیرس میں ان دنوں پی شکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔زبان سیکھنے کے سلسلہ میں بعض اداروں کا پتہ دیا۔اس کے بعد برطانوی قونصل خانہ میں گیا وہاں بھی انہی امور کے سلسلہ میں ابض معلومات اور پتے حاصل کئے۔وہاں سے وہ تعلیمی اداروں اور ایک پرائیویٹ سکول میں گیا اور ممکن معلومات حاصل کیں۔اس دوران ایک ایسے ادارہ میں بھی گیا جہاں مختلف ممالک کے طلباء کے لئے مقابلہ بہت ہی کم خرچ پر رہائش اور کھانے کا انتظام ہے۔۔۔19 مئی۔دفاتر بند تھے کہیں جا نہ سکتا تھا حضور ایک اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اور وفتر کو مفصل رپورٹ بھیجوائی ہمارے سامان میں کتابوں کا ایک بنڈل تھا جو پیرس پہنچے پر ہیں نہ ملاتھا۔کل اور آج پھر ہم متعلقہ دفاتر میں گئے لیکن اس کا کچھ پتہ نہ چلا کہ کہاں رہ گیا ہے۔لنڈن میں یا ڈو و یا گیلے کی بندرگاہ پر رہ گیا۔ان تینوں مقامات پر دفتر متعلقہ کی طرف سے خط لکھوائے اور تاریں بھیجوائیں۔ایک فرانسیسی نوجوان سے دو اڑھائی گھنٹہ تبلیغی گفت گو ہوتی رہی۔۔۔وہ نوجوان آبدیدہ ہو گیا اور بڑے درد سے کہنے لگا افسوس ہم نے یہ مذہب اپنے آباء سے اس رنگ میں پایا ہے کہ ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔میرے والدین نے تو میرے اندر عیسائیت ہمیشہ کے لئے بھرنی چاہی ہے، اور پھر دی ہے لیکن مجھے محسوس ہونے لگا ہے کہ آپ کی باتیں میرے عقائد سے مجھے ہلانا چاہتی ہیں۔" یہ لوگ اپنے مذہب کے لئے اس قدر ضدی اور متعصب واقع ہوئے ہیں کہ تبدیل مذاہب