تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 14 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 14

کا انہیں و ہم بھی نہیں ہو سکتا۔ہے ۲۰ مئی۔آج شبیح پیرس میں مختلف مقامات پر مختلف امور کے سلسلہ میں چند خطوط لکھے۔ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارہ اور ایک دفتر میں بھی گیا۔اس تعلیمی ادارہ کی منتظمہ سے تعلیم اور رہائش کے سلسلہ میں بعض معلومات حاصل کیں اور آخر میں اسے پون گھنٹہ کے قریب تبلیغ کی۔اس نے بھی یہی کہا کہ اسلام کی تعلیم کس قدر خوش نما ہے۔متل اور حقائق پر مبنی ہے لیکن میں روس کیتھولک ہوں یہ نہ خیال کرنا کہ میں اپنا مذ ہب کبھی چھوڑوں گی یہ فرانس کے حالات سیاسی ملکی مذہبی اور قومی تبلیغ کی راہ میں روکیں رکھتے ہیں جنہیں صرف اور صرف ہمارا خدا ہی دور کر سکتا ہے جو انشاء اللہ ضرور دُور کرے گا اور احمدیت جلد ایک دن اپنے اپنی مقصد میں کامیاب ہوگی، انشاء اللہ " سے فرانس میشن کی پہلی رپورٹ (مجاہدین فرانس نےحضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں جو پہلی رپورٹ بھیجی اس میں خاص طور پر فرانسیسیوں کے قومی تعصب اور حضرت مسیح موعود ہوش ربا گرانی پر اظہار تشویش کیا گیا تھا۔حضرت مصلح موعود نے ے اگرچہ فرانس میں اسلام کے خلاف صدیوں سے شدید تعصب پایا جاتا ہے مگر حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے عہد حکومت کے گہرے اثرات آج تک فرانس کے علم و تمدن میں موجود ہیں۔چنانچہ جیسا کہ فرانس کے ایک فاضل مصنف موسیو ڈھنڈی نے تسلیم کیا ہے۔فرانسیسی سرمایہ علم و ادب میں ہمیں بے شمار عربی الفاظ مصطلحات ملتی ہیں۔یہی بات موسیدو سو تری ہونے لکھی ہے ڈاکٹر گستاولی بان نے " تمدن عرب کے آخر میں بعض ایسے عربی الفاظ کی فہرست بھی دی ہے جو آج تک فرانسیسی زبان میں مرقوع ہیں۔سترھویں صدی عیسوی تک مسلم اطباء کی تالیفات فرانس کی درسی کتابیں بنی رہیں۔انگلستان کا مورخ سنگر تو بیاں تک لکھتا ہے کہ پیرس کی یونیورسٹی میں پروفیسروں کو قسم کھا کر یہ عہد کرنا پڑتا تھا کہ ہم کوئی لفظ ایسانہ پڑھائیں گے جو ارسطو اور اس کے ترجمان ابن رشد کی تعلیم کے خلاف ہو۔اگرچہ اس سنہری دور پر صدیاں گزرگئیں مگر مسلم خون کا اثر اب تک فرانسیسیلوں میں جاتی ہے۔چنانچہ جیسا کہ فرانسیسی محقق ڈاکٹر گستا ولی بان نے، تمدن عرب میں لکھا ہے۔فرانس کے بعض علاقوں میں عربوں کی اولا دیا آسانی پہچانی جا سکتی ہے تمدن عرب از ڈاکٹر گستاولی بان عرب اور اسلام پروفیسر فلپ۔کے۔حتی ، طب العرب" مسٹر ایڈورڈ جی بر آؤن یورپ پر اسلام کے احسان" ڈاکٹر غلام جیلانی برقی) سے افضل ہو۔۲۵ پیش من ۵۳ احسان جون ۹ م + سے دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوج نے فرانس کی میجینیو (MAGINOT) لائن توڑ کر رکھ دی اور ۲ جون 19ء کو پیرس میں داخل ہوگئی جس کے بعد مارشال بیان کی نئی حکومت نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈال دئے جو من نے فرانس پر قبضہ کر کے ملک میں سخت لوٹ مار کی اور فرانس کئی سال تک قحط کا شکار ہو گیا۔روزمرہ استعمال کی چیزوں کے نرخ تین گنا سے بھی بڑھ گئے اور آلما تک کمیاب ہو گیا۔غرضکہ جنگ کی وجہ سے فرانس کی غذائی صورت حال عد درجہ نازک صورت اختیار کر گئی و N