تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 12 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 12

گویا ہم انگریز کو ہی اپنے گھر نہیں لاتے بلکہ اس کے گھر کو اور اس کے تمدن کو بھی لانے پر بور ہوتے ہیں کیونکہ اگر ایسا انتظام نہ کریں تو انگریز ناک بھوں چڑھاتا ہے اور طبیعت خراب ہے کا بہانہ بناکر کھانے کی طرف پوری طرح متوقبہ نہیں ہوتا مگر فرانسیسی کے لئے ایسا انتظام کیا جاوے تو وہ نا پسند کرتا ہے اس لئے اسے بلانے پر کوئی فکر لاحق نہیں ہوتا۔اور جب اُسے بلایا جائے تو ہمارے ساتھ فرش پڑھ کر خوشی سے کھا پی لیتا ہے اور خوب بے تکلف ہو کر باتیں کرتا ہے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ جاتے وقت میزبان کو ہتھکڑی لگا کر ساتھ ہی لے جائے غرض انگریز اور فرانسیسی کے یہ نکیر میں یہ ایک نمایاں فرق ہے۔۔۔اس ماحول میں تبلیغ کرنا بہت مشکل کام ہے، جو شخص دوسرے کو ادنی اور حقیر سمجھتا ہے اس سے بات کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اگر کوئی بات کی بھی جاوے تو راہ سے کچھ وقعت نہیں دیتا اور اس کا اثر قبول نہیں کرتا ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد فراس ان شد و مشکلات کےباوجود واقعات کے اول اور خلیفہ اصلی د قران الموعود نے جنگ عظیم کے خانہ کے بعد فرانس میں تبلیغی مشن کھولنے میں احمد مسلم میشن کا قیام کا ارشاد فرمایا جس پر حضور کے حکم سے لنڈن میں مقیم تحریک کے پید ۳۲۵ امین کے دو مجاہدین یعنی ملک عطاء الرحمن صاحب اور مولوی عطاء اللہ صاحب ، ارماه همجرت ارمنی هلالالالالالا و پیرس پہنچے گئے اور ایک ہوٹل کے کمرہ کو اپنا مرکز بنا کر نہایت مخصر سے پیمانے پر کام شروع کر دیا مولوی عطاء اللہ صاحب جلد ہی فرانس سے افریقہ بھجوا دئے گئے اور مشن چلانے کی تمام ذمہ داری ملک عطاء الرحمن صاحب کو سونپ دی گئی۔مبشرین نے حیثیت کے ماحول میں پہلے تیکنی دن کیس طرح گزار ہے؟ اس کی احمدی مجاہدین کے پیرس تفصیل ملک عطاء الرحمن صاحب کی ایک ابتدائی رپورٹ میں جمیں ملتی میں پہلے تین روز ہے۔وہ لکھتے ہیں :- :- شام کے وقت ہم گاڑی سے اُترے رات کا وقت تھا۔ماحول ہر طرح اجنبی تھا یہاں کے ه الفضل بر رماه احسان جون ۱۳ شه مگه نه هر ماہ ہجرت برمی ان کو ان تلقین کے اعزاز میں پر مهرماه هم بارداری جماعت احمد یہ لنڈن کی طرف سے ایک الوداعی تقریب عمل میں آئی ہے ان