تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 255
۲۵۵ فاضل امیر مقامی نے نماز فجر کے بعد بہشتی مقبرہ کی چار دیواری کے شمال مشرقی کو نہ پر ایک کمرے کی بنیاد رکھی جو درویشوں کے تعاون سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔9 ماہ فتح / دسمبر کو درویشوں نے دفتر امور عامہ کے جنوبی جانب اجتماعی و قاری عمل کیا۔اس جگہ دو تین ہزار مسلمان پناہ گزین ہو گئے تھے جن کے فتے سے بہت سڑاند پھیل گئی تھی۔درویشوں نے اپنے ہاتھ سے اس جگہ کی صفائی کی اور گڑھوں کو میٹی سے پر کر دیا ۲۳ ، ماہ فتح / دسمبر کو مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے مولوی بر تا احمد صاحب در اجیکی ناظر امور عامہ ، ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے ، فضل الہی خان صاحب اور و دیگر ور ویشوں کو دار العلوم اور دار الفضل میں بھیجوایا تا قرآن مجید کے جو مقدس اوراق مسجد نور یا دار الفضل کے کھیتوں میں غیر مسلموں نے نہایت بے دردی سے بکھیر رکھے تھے وہ سپرد آتش کر کے دفن کر دیئے جائیں۔چنانچہ ان اصحاب نے نہایت محنت سے اس مختوضہ خدمت کو انجام دیا۔ان لوگوں نے نور جہسپتال کے سامنے بیت البرکات کی دیوار پر مندرجہ ذیل فقرات لکھے ہوئے دیکھیے مسلمانوں سے بچا کر رہو"۔قادیان کے ہندوو !ا قادیان سے خبردار رہو اور مسلمان کا ناس کرو یا ۱۳ فتح / دسمبر کو کیپٹن شیر ولی صاحب نگران حفاظت قادیان کی تحریک پر بہشتی مقبرہ کے اردگرد دیوار کی تعمیر کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا۔درویشوں نے اس کچی دیوار کو عمل کرنے میں از معد جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔یہ دیوار کئی برس تک قائم رہی۔بعد ازاں اس جگہ پختہ ودیوار تعمیر کو لی گئی۔اس طرح بہشتی مقبرہ اور اس سے متصل بڑا باغ بھی (جو سلسلہ کی عظیم تاریخی روایات کا حامل ہے، غیروں کی دست برد سے محفوظ ہو گیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احم صاحب نے انہی دنوں اپنے قلم سے مولوی عبد الرحمن صاحب امیر مقامی قادیا اہم خطوط اور جناسب ملک صلاح الدین صاحب کو جو مستعد و خطوط تحریر فرمائے وہ مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم میں محفوظ ہو چکے ہیں ان مکتوبات سے اس دور کے احوال و کوائف پر خوب روشنی پڑتی ہے اور بآسانی اندازہ لگ سکتا ہے کہ ان ہوش ربا ایام میں دیار حبیب کے ان عشاق اور فدائیوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ؟ بدلے ہوئے حالات میں انہیں کون سے نئے مسائل پیشی تھے اور وہ کس طرح اپنی جان ہتھیلی میں لئے ہوئے حفاظت