تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 250 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 250

۲۵۰ ها ماه شهادت اپریل میں مولوی غلام احمد صاحب شیخ عثمان (عدن) کے نواح میں ایک گاؤں محلا" نامی میں تبلیغ کے لئے گئے جو کہ شیخ عثمان سے چھ میل کے فاصلہ پر ہے وہاں ایک فقیہہ عالم سے گفت گو کا موقع ملا مولوی صاحب نے انہیں امام مہدی علیہ السلام کی خوشخبری دی اور احادیث صحیحہ اور قرآن کریم سے آپ کی آمد کی علامات بتا کر صداقت ثابت کی اور آخرمیں مسئلہ وفات شیخ پر دلائل دیئے۔قریباً ایک گھنٹہ گفت گو ہوتی رہی۔آخر انہوں نے تمام لوگوں کے سامنے اقرار کیا کہ حضرت سیج نامرئی قوت ہو چکے ہیں اور باقی مسائل پر گفت گو کرنے سے بالکل انکار کر دیا۔۲۱۹۴۸ ماہ نبوت / نومبر کا واقعہ ہے کہ ایک عرب نوجوان جو عیسائی مشنری کا تعاقب عیسائی مشنریوں کے زیر اثر اور ان کے پاس آتا جاتا تھا آپ کو گفتگو کے لئے ایک پادری کے مکان پر لے گیا۔کیا دیکھتے ہیں کہ چار نوجوان عرب بیٹھے ان جیل پڑھ رہے ہیں گفتگو شروع ہوئی تو مولوی صاحب نے اناجیل ہی کے حوالوں سے ثابت کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں کوئی خدائی صفات نہ پائی جاتی تھیں۔پادری صاحب لاجواب ہو کہ کہنے لگے کہ آپ ہماری کتابوں سے کیوں حوالے دیتے ہیں ؟ مولوی صاحب نے جواب دیا ایک اس لئے کہ آپ کو وہ مسلم ہیں دوسرے آپ ہمیں انجیلوں کی طرف دعوت دیتے ہیں لہندا تنقید کرنا ہمار احتقی ہے۔آخر پادری صاحب ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور مزید گفت گو سے انکار کر کے الگ کمرے میں چل دیئے اس پر سب عرب نوجوانوں نے آپ کا ولی شکریہ ادا کیا کہ آج آپ نے ان کا جھوٹ بالکل واضح کردیا ہے۔کے وسط آخر میں مولوی صاحب کے عد آن کے مباحثے اور انفرادی ملاقاتیں علماء سے وفات مسیح مسئله ناسخ ومنسوخ مسئله نبوت اور یا جوج ماجوج کے مضامین پر متعدد کامیاب مباحثے ہوئے۔علاوہ ازیں آپ نے عدان کی بعض شخصیتوں مثلاً سید حسن صافی ، محمد علی اسودی تک پیغام حق پہنچا یا۔ماہ تبوک استمبر میں آپ نے جعارا اور منج کا تبلیغی دورہ کیا جہار میں حاکم علاقہ علی محمد کو تبلیغ کی اور لیج میں بعض امراء مثلاً لے عدن سے میل کے فاصلہ پر ہ سے شیخ عثمان سے 14 میل دور ایک چھوٹی سی آزاد ریاست ! جس کا مرکز سقوط ، ہے؟