تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 249
۲۴۹ کے دوران میں داغ مفارقت دے گئے جس سے مشن کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔مرحوم بہایت مخلص، نہایت پرجوش اور بہت سی صفات حمیدہ کے مالک تھے تبلیغ کا جوش اور شغف ان میں بے نظیر تھا۔اگر کوئی مریض ان کے گھر پر آتا تو وہ اس تک ضرور محبت ، اخلاص اور ہمدردی سے احمدیت کا پیغام پہنچاتے۔احدیت کے مالی جہاد میں بھی آمدنی میں کمی کے باوجود بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے مولوی ۱۳۲۶ غلام احمد صاحب مبشر نے اپنے ۲۷ ماه فتح / دسمبر کی رپورٹ میں ان کے انتقال کی اطلاع ہ دیتے ہوئے لکھا :- احمدیت کی مالی خدمت کا جو جوش اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر رکھا ہوا تھا اس کی نظیر بھی کم ہی پائی جاتی ہے۔ہمارا اندازہ ہے کہ وہ ہر سال اپنی آمد کام ساٹھ فیصدی اشاعت اسلام کے لئے خرچ کر رہے تھے۔مساکین اغرباء سے ہمدردی اور خدمتِ خلق کا جذبہ تو کوٹ کوٹ کر ان کے دل میں بھرا ہوا تھا۔اگر کوئی مسکین بھی ان کے دروازے پر آجاتا اور وہ سوال کرتا تو آپ ضرور اس کی حاجت کو پورا کر دیتے۔بعض اوقات اپنی نئی پہنی ہوئی تمیں وہیں اُتار کر دے دیتے اور یہی باتیں بعض اوقات ان کے گھر میں کشمکش کا باعث ہو جاتیں۔غرضکہ آپ کی زندگی حقیقت میں یہاں کی جماعت کے لئے ایک محمدہ نمونہ تھی !" اوائل هر ۱۳۲۷ ۶۱۹۲۸ میں مولوی غلام احمد صاحب نے ایک اور عالم آغوش احمدیت میں مرکز میں لکھا کہ اس علاقہ کے لوگ بالکل بھی اسلام سے بے بہرہ اور بد و یا نہ زندگی بسر کر رہے ہیں حتی کہ انہیں نماز تک نہیں آتی قرآن شریف الگ رہا اگر آپ اجازت دیں تو خاکسار درویشانہ فقیرانہ صورت میں اندرونی حصہ عرب میں پھیلا جائے اور ان لوگوں تک اسلام و احمدیت کا حقیقی پیغام بذریعہ تربیت ہی پہنچائے تو عد آن کی نسبت زیادہ کامیابی کی امید ہے لیکن مرکز نے اس کی اجازت نہ دی۔اس تجویز کے ایک ماہ بعد محمد سعید احمد نامی ایک اور مغرب عالم سلسلہ احمدیہ میں شامل ہو گئے جس کے بعد جماعت عدن کے بالغ افراد کی تعداد تک پہنچ گئی۔محمد سعید تجھ کے رہنے والے تھے جو کہ میات عدن میں سے ہے۔لے عرب ۲ - ہندی گجراتی 1 پنجابی ۶ :