تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 244
۲۴۴ اس کشن کے قیام کا پس منظر یہ ہے کہ یہاں کچھ عرصہ سے پانچ عدن شن کے قیام کا پس منظر نہایت مختص بعدی ڈاکٹر قومی اور کی خدمات بجا کار ہے یتی کہتے جن کے نام یہ ہیں۔ڈاکٹر فیروز الدین صاحب۔ڈاکٹر محمد احمد صاحب۔ڈاکٹر محمد خاں صاحب۔ڈاکٹر صاجزادہ محمد ہاشم خاں صاحب اور ڈاکٹر عزیز بشیری صاحب۔ڈاکٹر فیروز الدین صاحب جو اُس زمانے میں جماعت عدن کے پریذیڈنٹ تھے عدن سے قادیان آئے تو انہیں ڈاکٹر محمد احمد صاحب ۱۱۹۴۶ نے اپنے خط مورخه ۲۳ صلح جنوری اور تار مورخہ ۲۳ صلح / جنوری میں عدن بشن ه ۳۲۵ کھلوانے کی تحریک کی نیز لکھا کہ یکی مبلغ کے لئے اپنا مکان کچھ ماہ تک دینے کے لئے تیار ہوں اس عرصہ میں دار التبلیغ کے لئے کیسی اور مکان کا انتظام ہو سکے گا۔ڈاکٹر محمد احمد صاحب نے اس کے ساتھ ہی پانچ سو روپیہ اخراجات سفر کے لئے بھی بھیجوا دئیے اور ڈاکٹر عزیز بشیری صاحب نے اتنی ہی رقم کا وعدہ اخراجات قیام کے طور پر کیا۔چنانچہ ڈاکٹر فیروز الدین صاحب جماعت عدن کی نمائندگی میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب کا خط اور تاریشیش کیا اور درخواست کی کہ کوئی موزوں مبلغ عدن کیلئے تجویز فرمایا جائے ہم پانچوں ڈاکٹر دار التبلیغ کا بار اُٹھانے میں مدد کریں گے۔اس پر حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل نوجوان مولوی غلام احمد صاحب مبشر کو اس خدمت کے لئے نامزد فرمایا۔مولوی غلام احمد صاحب مبشر ۴ ماه ظهور/ اگست مبشیر اسلامی کا عدن میں ورود ۳۵ کو قادیان سے روانہ ہو کر تیسرے دن ۶ - ظهور / اگست کو بیٹی پہنچے جہاں حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیتریہ اور دوسرے احباب جماعت نے اُن کا استقبال کیا۔بعد ازاں و ظہور اگست کو جہاز میں سوار ہوئے اور 19 ظہور / اگست بروز سوموار عدن پہنچے۔بندرگاہ پر ڈاکٹر فیروز الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب آپ کو لینے کے لئے پہلے سے موجود تھے۔مولوی غلام احمد صاحب بر حسب فیصلہ ڈاکٹر محمد احمد صاحب کے ابتدائی تبلیغی سرگرمیاں یتیم ہوئے اور ایسی ڈاکٹر امام صاحب اور اکثر فیروزالدین صاحب اور ڈاکٹر عبد اللطیف صاحب کے ساتھ وفد کی صورت میں عدن سے دس میل کے فاصلہ پر