تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 245
۲۴۵ واقع شیخ عثمان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض عربی تصانیف مثلاً الاستفتاء ، الخطاب الجليل ، التبليغ اور سِيرة الابدال وغيره مختلف اشخاص کو پڑھنے کے لئے دیں اور زبانی بھی پیغام حق پہنچایا۔علاوہ ازیں عدن میں مولوں ، عیسائیوں اور یہودیوں میں التبليغ ، سيرة الابدال، نظام کو (انگریزی) ، اسلام اور دیگر مذاہب ، میں کیوں اسلام کو مانت ہوں وغیرہ کتب اور ٹریکٹ تقسیم کئے۔احمدی ڈاکٹروں نے ابتداء ہی سے یہ خاص اہتمام کیا کہ وہ اولین فرصت میں اپنے حلقہ اثر کے دوستوں کو مبشیر اسلامی سے متعارف کرائیں۔اس غرض کے لئے اُنہوں نے بعض خاص تقریبات بھی منعقد کیں جن میں عدکن کے باشندوں خصوصاً نوجوانوں کو بد عو کیا۔خود مولوی صاحب بھی اشاعت حق کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے بھی مولوی صاحب کی پر جوش تبلیغ میں ایسی برکت ڈالی کہ پہلے مہینہ میں ہی ایک دوست احمد علی صاحب نامی جو ہندوؤں سے مسلمان ہوئے تھے اور شیخ عثمان کے نواحی علاقہ کے باشندے اور عد ن کے رہنے والے تھے حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے حضرت مصلح موعود نے ان کی بعیت قبول فرمائی اور مولوی غلام احمد صاحب کو ارشاد فرمایا " تبلیغ پر خاص زور دیں اس پر مولوی صاحب نے عدن شیخ عثمان اور تو اہیں اسٹیمر پوائنٹ میں باقاعدہ پروگرام کے مطابق انفرادی ملاقاتوں اور تقسیم لٹریچر کے ذریعہ سے زور شور سے تبلیغ شروع کر دی اور گرجوں اور معززین کے گھروں اور بازاروں میں عربی ، اُردو اور انگریزی لٹریچر تقسیم کرنے لگے۔چنانچہ آپ نے عربی کتب میں سے سيرة الابدال + اعجاز اسیح ، التبليغ الاستفتاء اُردو میں احمدی اور غیر احمدی میں فرق ، پیغام صلح اور انگریزی میں احمدیہ موومنٹ، پیغام صلح ، اور تحفہ شہزادہ ویلیز۔بعض معربوں ، ہندوستانیوں اور انگریزوں کو پڑھنے کے لئے دیں جس سے خصوصاً انگریز وں اور عیسائیوں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے حکام بالا تک رپورٹ کر دی۔ہ ان مقامات کا انتخاب اس لئے کیا گیا تھا کہ ان میں احمدی، ڈاکٹر قیام پذیر تھے۔چنانچہ عدت میں ڈاکٹر فیروز الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب ،شیخ عثمان میں ڈاکٹر محمد خاں صاحب اور تو انہی میں ڈاکٹر کیپٹن عزیز بشیری صاحب رہتے تھے۔مولوی صاحب موصوف ہفتے ہیں دو دو دن شیخ عثمان اور تو اسی میں اور تین دن عدن میں تبلیغی فرائض سرانجام دیتے تھے اور جمعہ بھی یہیں پڑھاتے تھے ،