تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 237
رہے گا۔۲۳۷ 4۔ایک اور مکتوب پر ارشاد فرمایا :- ان کو سمجھائیں کہ جس علاقہ میں جائیں پہلے ان سے دوستیاں کریں، تعلقات بڑھائیں، ہلکی ہلکی تعلیم میں پھر تبلیغ آسان ہو جائے گی ، یا درکھیں ذوالقرنین پہلے مغرب میں گیا پھر مشرق میں سو پہلے تبلیغ مغرب سے شروع ہوئی اب مشرق کی طرف شروع ہو رہی ہے۔یہ جو ہے کہ سورج مغرب سے چڑھے گا اگر امریکہ سے رو شروع ہوئی تو راستہ میں آپ کا ملک آتا ہے یا (۲۱) صلح جنوری تبلیغی ادریس ( ۶۱۹۵۶ مرزا محمد اور ایسی صاحب نے هر کی پہلی سہ ماہی میں راناؤ کے علاوہ مندرجہ وسیع بیغی دورہ ذیل دیہات کا تبلیغی دورہ کیا۔لیبانگ، تگوؤں ، کنتینتل، کینی در اسن، پروٹ رینڈ اکنگ ، موکاب، پرنگ، سنگیٹن ، تو پنگ، پر پچانگن ، لنگست ، کنڈ اسٹنگ، ہنڈو تو ہین۔ان دیہات کی مجموعی آبادی مسلمان، عیسائی اور لامذہب لوگوں پر شتمل ہے۔مرزا صاحب موصوف نے ان مختلف الخیال لوگوں کو محبت و پیار سے حقیقی اسلام کی طرف دعوت دی تعلیم یافتہ غیر مسلموں کو اسلامی اصول کی فلاسفی" کا تحفہ دیا اور مسلمانوں کو امام مہدی کی بشارت سنانے کے علاوہ نمازہ اور قرآن مجید پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔تہ جماعت احمدیہ اور نیو کے ذریعہ ایک عرصہ سے فلپائن کے ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب کا مسلمانوں تک پیغام کی پہنچ رہاتھا اور کئی سعید دو میں حق سفر فلپائن حق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھیں۔مرکز احمدیت نے فلپائن میں مبتلغ بھجوانے کی مسلسل کوششیں کیں مگر فلپائن کی حکومت کسی مسلمان مشنری کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیتی تھی۔یہ صورت حال دیکھ کر ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب نے اپنی خدمات حضرت مصلح موعودو کی خدمت میں پیش کیں چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں آپ آگاہ احسان رتوں سے فلپائن تشریف لے گئے جہاں تھوڑے ہی عرصہ میں دو سو سے زائد اشخاص ان کی تبلیغ سے داخل سلسلہ ہو گئے جس پر حضور نے سالانہ جلسہ کی تقریر کے دوران خوش نودی کا اظہار ل مبتغی بو نیو کی طرف اشارہ ہے (مولف) له الفضل در احسان جون له