تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 236 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 236

۲۳۹ ہے گورنمنٹ کہیں اسے ضبط نہ کر لے تو اس نے مٹی بھینچ لی اور اس کو ہلا کر کہا ہم مسلمانی کثریت میں ہیں ہم گورنر کی گردن پھینے دیں گے اس کو طاقت کیا ہے۔۔۔چاہئیے تھا کہ عقل سے کام کر تے مگر ساتھ ہی پلک کو ایسے حاکموں کے خلاف کھڑا کر دیتے جو ظلم اور تعدی سے کام لیں م۔ان کے ۲۶ ستمبر شاہ کے ایک مکتوب پر تحریر فرمایا: آپ بار بار گورنر کو ملتے رہیں اس سے اثر پیدا ہوتا ہے۔اب آپ اس علاقہ کو ہرگز نہ چھوڑیں اور اس موقعہ سے پورا فائدہ اٹھائیں اور اس میں تبلیغ پر زور دیں۔اس وقت ایسا موقعہ ہے کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو جائیں : ۵۔ڈاکٹر صاحب موصوف کا ایک خط مورخه اار اغاز / اکتوبر کو حضور کی خدمت میں موصول ۱۹۵۵ء ہوا جس پر حضور نے جو ہدایات فرمائیں وہ صاجزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کے الفاظ میں درج ذیل ہیں :- (الف) " گورنر کے نام جو چٹھی لکھی گئی ہے بے شک بھیجوا دی جائے مگر اس میں یہ امر ومضات سے تحریر کر دیا جائے کہ نئی بلڈنگز وغیرہ کے متعلق جو قوانین عیسائی مشنوں کے متعلق ہیں وہ جب تک ان پر عائد ہوں گے ہم بھی ان کی پابندی کریں گے۔اس بارہ میں حضور نے یہ تاکید فرمائی ہے کہ اس کے نتیجہ میں تبلیغ پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے تبلیغ ہم جہاں چاہیں کریں گے۔(ب) مقدمہ کی اپیل کے متعلق کل ہی لکھا جا چکا ہے۔اگر تو گورنمنٹ نے اس مقدمہ کو آئندہ ہمارے خلاف استعمال نہیں کرنا تو پھر بے شک اپیل نہ کریں ورنہ اپیل کی جائے۔(ج) اگر کسی علاقہ سے مبلغ کو تبلیغ سے روکنے کے لئے نکلنے کا حکم دیا جائے تو مبلغ ہر گنہ اپنی جگہ نہ چھوڑیں خواہ قید کر لئے جائیں۔اس صورت میں یہ طریق اختیار کیا جائے کہ پبلک سے ایجی ٹیشن کروایا جائے کہ مذہب میں حکومت دخل دے رہی ہے۔ان حالات میں ضروری ہے کہ جلد سے جلد لوکل مبلغ تیار کئے جائیں کیونکہ اگر حکومت غیر ملکیوں کو نکال ہی دے تو لوکل مبلغین کو تو نہیں نکال سکتی اس طرح تبلیغ کا راستہ بند نہ ہو گا بلکہ کھلا