تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 235 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 235

۲۳۵ سے یہ ہوا کہ اب سنڈا کن کی جماعت بود نیو کی سب سے بڑی جماعت ہے اور ڈنٹل مورا یوسف صاب اس کے پریذیڈنٹ ہیں۔۱۳۳۴۰-۳۵۰ ۳۵ ۱۳۳۳ میں جبکہ راناؤ میں انگریزی حکومت جبکہ را 71900-09 حضرت مصلح موعود کی لعین خصوصی ہدایات کی مشینری جماعت احمدیہ اور اس کے مبلغین کے خلاف پورے زور سے حرکت میں آچکی تھی حضرت مصلح موعودؓ نے ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب کو وقتاً فوقتاً درج ذیل ہدایات دین :- ا۔ڈاکٹر صاحب کے مراسلہ یکم تبوک ستمبر یا پر ارشاد فرمایا :- ر احتجاج کا کیا سوال تھا کہہ دیتے ہم نہیں نکلتے ہمیں بھی وہی حق حاصل ہے جو اور لوگوں کو ہے۔اصل طریق یہ ہے کہ بور نیو کے لوگوں میں پراپیگنڈا کریں کہ ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں تبھی یہ لوگ سیدھے ہوں گے۔"۔انہوں نے اپنے مکتوب ۲۰ تبوک رستمبر ۱۳۲۵ میں تبلیغی صورت حال کی اطلاع دی تو حضور نے اس پر لکھا :۔، صحابہ کی طرح تبلیغ کریں جس طرح جونک چمٹ جاتی ہے منتیں کریں ، غیرت دلائیں ، جوش دلائیں، اور ایک ایک کو نہیں ہزاروں کو یا ۳۔ڈاکٹر صاحب کے مکتوب ۲۲-۲۳ تبوک /ستمبر های پر فرمایا :- ۶۱۹۵۵ " اصل اہم بات یہ ہے کہ آپ کو نہ نکالیں۔آپ کہ دیتے کہ بے شک اور میں کو قید کہ لو میرا کوئی تعلق نہیں۔اگر اور میں قید ہو جاتا اور کہہ دیتا کہ ڈاکٹر بدرالدین کو مجھے پر کیا اختیار ہے ؟ تو مسلموں سے کہنا کہ میں تمہارے ایمان کی خاطر قید ہونے لگا ہوں تو ساری دنیا میں تہلکہ بچ جاتا۔ہم سارے افریقہ اور امریکہ میں شور نچوا دیتے۔ڈچ بور نیو میں بھی شور مچو ائیں اور کہیں کہ انگریز نکل جائیں ہم اور نیو انگریزوں کے ماتحت نہیں چاہتے۔جب انگریز نے تبلیغ کو پولیٹیکل معاملہ قرار دیا ہے تو آپ کیوں نہیں پولیٹیکل معاملہ قرار دیتے ، سارے افریقہ میں لوگ بطور قوم آباد ہیں انہوں نے گورنمنٹ سے ٹکر لی ہے اور ان کو شکست دی۔جب میں نے لیگوس کے چیف سے ذکر کیا کہ میرا ایک رسالہ جو عیسائیت کے خلاف