تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 234 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 234

۲۳۴ اس سے کہلواتی اور پبلک اس پر اندھا دھند آمنا و صدقنا کہ دیتی۔مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے حکومت کی اس مسلم کش پالیسی کے خلاف بود نیو کے واحد روزنامه SABAN TIMES میں مفصل مضمون شائع کرایا جس میں مسلمانوں کو حکومت کے مقرود کرد امام اور چیف قاضی کے نقصانات بتائے اور نہایت وضاحت سے بیان کیا کہ اس سے حکومت کا مقصد در پروہ مسلمانوں کی وحدت کو کمزور کرنا اور ان میں فتنہ پیدا کرنا ہے۔راناؤ کے نئے احمدی نیٹو چیف امان ان دنوں سنڈا کن کی سرکاری کا نفرنس میں مدعو تھے۔مرزا محمد اور میں صاحب نے ان کو بھی خاص طور پر اس معاملہ کی اہمیت بتلائی اورمسلمانوں کے موقف کے بارے میں تعیض دلائل دیئے تا اگر یہ مسئلہ حکومت کی طرف سے پیش ہو تو اس کے خلاف موثر آواز بلند کی جاسکے لیے نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزی حکومت اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکی۔۱۹۵۵ مشرقی ساحل میں احمدیت کی آواز اور ان میں مودی مدیر صاحب نصاری نے بوریو کے مشرقی ساحل تک پیغام احدیت پہنچانے کے لئے - ایک کامیاب دورہ کیا۔اس علاقہ سے سب سے پہلے سنڈا کن کے ڈنٹل مورا یوسف نے قبول احمدیت کا اعلان کیا۔یہ نوجوان نسلاً فلپینی ہیں۔انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک ہر طرح کے شدائد کا نہایت پامردی اور جرات سے مقابلہ کیا اور مبلغ کے ساتھ مل کر دن رات تبلیغ کرتے رہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل ما را ناؤ کے علاقہ میں پانچ نیٹو چیف تھے ان میں مسلمان نہیں ایک تھے جو مرزا محمد ادریس صاحب کے قیام رانا ؤ کے دوران ۱۸ ماه نبوت / نومبر کو بیعت کر کے داخل سلسلہ احمدیہ ہو گئے۔مرزا محمد ادریس صاحب کی ۱۹۵۵ء طرف سے بھی ان کا بیعت قادم حضرت مصلح موعود کی خدمت ہیں موصول ہوا تو حضور نے ارشاد فرمایا :- ان کو کہیں کہ ہمیں تو آپ لوگ آگے نہیں آنے دیتے اب آپ کا کام ہے کہ اپنے قبیلے کو احمدی بنائیں اللہ تعالیٰ آپ کو پائیتر ( POINEER ) بنائے اور دینی بر کانت عطا فرمائے۔ٹیٹو چیف امان پر بعد میں بڑی سختی کی گئی اور انگریز ڈسٹرکٹ آفیسر اور مسلمان نائب افسر دونوں نے الگ الگ د همکی دی کہ احمدی ہو جانے سے تم چیف نہ رہو گے مگر وہ نہا یت پامردی سے حق پہ قائم رہے : ے تبلیغی رپورٹ مرزا محمد اور میں صاحب ہے لم میشه لہ تعالی نے انہیں دنیا وی لحاظ سے بھی غیر معمولی توتی دی۔احمدیت کو قبول کرتے وقت وہ محکمہ جنگلات میں معمولی کلرک تھے لیکن اب وہ اسی محکمہ میں اعلیٰ افسر ہیں۔ابھی حال ہی میں گورنمنٹ کے خرچ پر وہ ہالینڈ میں مزید ٹرینینگ حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آئے ہیں اور مزید ترقی حاصل کی ہے ؟