تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 233 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 233

۲۳۳ ان کی آمد کے ساتھ راناؤ میں کافی رونق پیدا ہوگئی۔انصاری صاحب کی آمد سے تین چار دن قبل ہی عیسائی مسلمانوں کو مقابلہ کے لئے بلا رہے تھے۔ایک عیسائی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اکیلا ہزار مسلمانوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔مقامی مسلمانوں نے اور عیسائیوں نے آپس میں فیصلہ کر کے دو جون کا دن تباد از خیالات کے لئے مقرر کیا مسلمان خود تو عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے ان کی ہم سے ہی امیدیں وابستہ تھیں مقامی مسلمانوں نے عیسائیوں کی طرف سے وہ خط ہمیں دیا جس میں مسلمانوں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ ۲ - جون شاہ کو فلاں مقام پر تبادلہ خیالات کے لئے حاضر ہو جائیں۔چنانچہ مسلمانوں کی خواہش پر مکرم مولوی محمد سعید صاحب انصاری اور خاکسار میدان مقابلہ میں پہنچے گئے ہم نے مقامی مسلمانوں کے ذریعہ نیٹو چیف اور پولیس کی طرف سے انتظام کر لیا تا کسی قسم کا کوئی فتنہ اور شرارت پیدا نہ ہو ہم نے نیٹو چیف اور پولیس کے افسر کو وہ خط دکھا دیا کہ عیسائیوں کی دعوت پر اور مقامی مسلمانوں کی خواہش پر ہم تبادلہ خیالات کرنے کے لئے آئے ہیں۔کافی انتظار کے بعد پادری تو بوجہ عدیم الفرصتی کے تشریف نہ لائے البتہ ان کے نمائندے پہنچے گئے۔عیسائیوں کے نمائندوں کے ساتھ مکرم مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے قریباً دو گھنٹہ تبادلہ خیالات کیا۔موضوع گفتگو تشکیرت تھا۔اس مباحثہ کے ذریعہ مقامی مسلمانوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ عیسائیت کا مقابه صرف جماعت احمدیہ ہی کر سکتی ہے۔" خلاف نارتھ برٹش بوز نیو کی عیسائی حکومت نے راناؤ حکومت کی مسلم کش پالیسی کے خلا کے سامان کو اپنے زرار رکھنے اوران کے کے مسلمانوں کو موثر آواز مذہبی ماحول کو اپنے رنگ میں ڈھالنے اور ان پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے یہ طریق جاری کر رکھا تھا کہ وہ رانا ؤ کا چیٹ قاضی اور امام خود مقر ر کر تی تھی اور ارد گرد کے دیبات میں اس کے منظور شدہ امام کے بغیر کوئی دوسرا شخص نہ امام بن سکتا تھا اور نہ مسلمانوں کو دینی تعلیم دینے کا مجازہ تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان ذہنی طور پر مفلوج ہو گئے تھے اور اس علاقہ کا امام محض حکومت کا آلہ کاربن کے رہ گیا تھا حکومت جو چاہتی