تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 229
۲۲۹ بھجوایا جاتا تھا۔یہ رسالہ جماعت احمدیہ اور نیو کے واحد ترجمان کی حیثیت سے بہت عمدہ اثرات پیدا کرنے کا موجب ہوا اور اس کے ذریعہ بعض سعید روحوں کو قبولِ حق کی بھی توفیق علی۔افسوس مولوی محمد سعید صاحب انصاری کی مراجعت پاکستان ) کے بعد اس مفید رسالہ کا صرف ایک الیشوع مشکل سکا اور پھر سے بند کر دینا پڑا۔71409 /1900 -۲ ہجرت امنی کا ذکر ہے کہ مبلغ بورنیو مرزا محمد ادریس را ناؤ میں احمد می مبلغ اور | جماعت احمدیہ کے خلاف فتنہ علاقہ میں تشریف لے گئے۔عیسائی حکومت نے جو پہلے ہی اس تاک صاحب ایک نئے تبلیغی میدان کی تلاش میں راناؤ کے دور افتادہ میں تھی کہ کسی طرح احمدی مبلغین کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا اسے بہانہ ہاتھ آئے بغیر کسی قانون کے محض ایک روایتی قاعدہ کی آڑ لے کر انہیں بھی اور جناب مولوی محمد سعید صاحب انصاری کو بھی جو بعد میں وہاں تشریف لے گئے اس علاقہ سے نیکل بجانے کا نوٹس دے دیا۔چونکہ اس ظالمانہ کاروائی سے حکومت کی غرض محض یہ تھی کہ اس علاقہ میں تبلیغ اسلام کی سرگرمیاں روک دی جائیں اس لئے اسلام کی عزت و حرمت اور احمدیت کے وقار کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ ملک میں مذہبی آزادی کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے آئینی جد وجہد کی جائے چنانچہ جماعت احمدیہ اور نیو اور حکومت کے درمیان اس مسئلہ پر عرصہ تک خط و کتابت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔آخر حکومت کو احمدی مبلغین سے یہ پابندی اُٹھانا پڑی اور جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے تمام برٹش بور نیو میں احمدیوں کو قانوناً تبلیغ کی آزادی حاصل ہوگئی اگر چہ حکومت اندر ہی اندر عوام کو احمدیوں کے خلاف برابر اکساتی رہی۔مرزا محمداد ہیں صاحب کا بیان ہے کہ :۔" بورنیو کے ایک علاقہ را ناؤ ہیں۔۔۔صرف ایک قوم ڈوسون نامی آباد ہے۔یہ قوم پہلے لا مذہب تھی۔یہاں عیسائیوں کے دو مشن ایک لمبے عرصہ سے کام کر رہے ہیں۔حکومت کی یہی پالیسی تھی کہ یہ علاقہ عیسائیت کی آغوش میں چلا جائے اس لئے حکومت کی طرف سے ہمیشہ مسلمانوں پر جو اس علاقہ میں داخل ہونا چاہیں پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔جب یکی اس علاقہ میں گیا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں نے میری آمد پر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔بہت سے لوگوں نے قرآن مجید اور نماز سیکھنی شروع کردی۔راناؤ میں داخل ہونے