تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 201 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 201

یورپ، افریقہ اور امریکہ میں مبلغین بھیجے جاتے ہیں۔یہ میلین عملی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے چار پانچ سال کی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں چودہ سال سے اسلامی مشتری کام کر رہے ہیں۔ان کے مشن نے یہاں ۲ جولائی شاہ سے کام شروع کیا تھا اور دسمبر 2 ماہ میں ہیگ میں مسجد کا افتتان ہوا۔ہالینڈ میں احمدیہ جماعت کے لیڈر اور مسجد کے امام مسٹر کیو یو حافظ ہیں جو یہاں شاہ سے (سوائے چار سال کے وقفہ کے) کام کر رہے ہیں۔ہمارے ملک میں لمبے قیام کی بدولت مسٹر حافظ ڈچ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔حافظ ان کا اصل نام نہیں ہے ان کا اصل نام ڈچ لوگوں کے لئے ادا کرنا کچھ مشکل ساہے حافظ ایک لقب ہے جو قرآن کو زبانی یاد کرنے والے افراد کو ان کی عزت افزائی کے لئے دیا جاتا ہے۔یہ مسجد خالصتاً احمدی جماعت کی مستورات کے چندوں سے بنی ہے۔یہاں ہر جمعہ کے دن دو پر ڈھلنے پر نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے اور اس کے قریب ہی ایک کمرہ میں بیٹھ کر باہم تبادلہ خیالات کیا جاتا ہے۔جب کوئی جسمان ملاقات کے لئے آتا ہے تو اسے نہایت خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی سے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔پھر امام صاحب اسے اپنے مشن کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہیں۔ان کے نائب مسٹر صلاح الدین مشنری کام میں مدد کے لئے حال ہی میں پاکستان سے آئے ہیں۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اسلام میں احمدیت ہی وہ واحد تحریک ہے جو مشنری کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔اسی طرح حضرت احمد کی قائم کی ہوئی یہ تحریک قرآن کی خالص تعلیم کو عملی جامہ میں دیکھنا چاہتی ہے۔یہ مسلمان اپنے عقیدہ کی تبلیغ تلوار کے ذریعہ نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی مقدس کتاب کے اس حکم پر بڑی مضبوطی سے کاربند ہیں کہ مذاہب میں کوئی خیر نہیں ہونا چاہیئے۔مسٹر حافظ اس امر کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ہماری تحریک کی کوشش یہ ہے کہ دنیا میں اتحاد و اتفاق پیدا ہو۔عیسائیوں سے بھی ہمارے تعلقات برادرانہ ہیں۔ہم دنیا میں امن اور رواداری کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اسلام اپنے پیروؤں کو دوسرے مذاہب کی تضحیک سے روکتا ہے اور مسلمانوں کو غیر مذاہب کی