تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 200 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 200

۲۰۰ کے لئے ایک صحت مند چیلنج ہے" لکھا :- آج سے دس سال قبل اسی اخبار میں یہ سوال زیر بحث تھا کہ یہ لوگ (احمدیہ مشن والے) کیسی لئے یہاں آئے ہیں۔ہمارے ملک میں ان کا کیا کام ہے اور یہ کہ کس نے نہیں یہاں آنے دیا۔وغیرہ وغیرہ مگر اب حقیقت کھلی ہے کہ یہ لوگ بڑے پیتے ارادے سے آئے تھے اور پورے طور پر سنجیدہ تھے اور اس کا ثبوت اس وقت ملا جب شار میں انہوں نے ہیگ میں ایک مسجد تعمیر کر کے رکھ دیا ( ترجمہ ) (4) مندرجہ ذیل مبسوط مضمون ہالینڈ کے پانچ روزناموں میں تصاویر اور جلی عنوانات کے ساتھ شانہ میں شائع ہوا :- "یورپ کے عیسائی مشنری تو کئی صدیوں سے تمام دنیا میں عیسائیت پھیلانے میں کوشاں ہیں لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد سے خصوصاً مشرق کے مسلمان مشتری بھی یورپ میں قدم جما رہے ہیں۔وہ اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور اپنی تبلیغی مساعی میں سرگرم عمل ہیں۔پورپ کے متعدد ممالک میں انہوں نے مساجد تعمیر کی ہیں۔ایک مسجد انہوں نے ہالینڈ میں بھی تعمیر کی ہے۔یہ واحد ڈچ مسجد سیگ میں ہے۔یہ ہمارے ملک کے مسلمانوں کا روحانی مرکز ہے جہاں سے وہ اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے ہیں۔یہاں سے سارے ملک میں چھوٹی اور بڑی مختلف کتا بیں تقسیم کی جاتی ہیں۔تقاریر کی جاتی ہیں اور قرآن پر بہت توجہ دی جاتی ہے مسلمانوں کی اس مقدس کتاب کے ڈچ ترجمہ کی چھے ہزار جلدیں ہالینڈ کے لوگوں کے ہاتھوں میں بھا چکی ہیں۔علاوہ ازیں انگریزی اور جرمن تراجم بھی تقسیم کئے گئے ہیں تبلیغ اسلام کا یہ سارا کام جماعت احمدیہ کے ذریعہ سر انجام دیا جاتا ہے جس کی بنیاد میں رکھی گئی مسلمانوں میں ہیں ایک جماعت ہے جو تبلیغ اسلام کے فرض کو نبھا رہی ہے اور مسلمانوں میں تجدید دین اور اسلامی شریعت کو قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔جماعت احمدیہ کا مرکز ربوہ، پاکستان میں ہے جہاں سے ایشیا کے مختلف ممالک، ه الفضل ارشہادت / اپریل ملا کالم : 1 ۶۱۹۲۳ کی