تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 202
۲۰۲ خوبیوں کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔ان مبلغین کا اولین مقصد لوگوں کو مسلمان بنانا ہی نہیں بلکہ اسلام کے متعلق پیدا کہ وہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا بھی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اسلام کو بہرطور پہ تھا جائے کیونکہ درسی کتابیں خصوصاً اسلام کی صحیح تصویر کو پیش نہیں کرتیں۔ہمارے دلوں میں عیسائیت کا پورا احترام ہے ہم حضرت عیسی کو خدا کا ایک برگزیدہ نبی تسلیم کرتے ہیں۔قرآن میں قریباً تمام اسرائیلی نبیوں کا تذکرہ موجود ہے۔احمدید تحریک خالصتنا ایک مذہبی تحریک ہے اور وہ سیاسیات میں نہیں اُلجھتی۔لفظ " اسلام" کے معنی پر زور دیتی ہے جس کے معنے ہیں امن و آشتی قائم کرنا مسلمان و شخص ہے جو غذا سے اور بنی نوع انسان سے امن کے تعلقات قائم کرتا ہے۔خدا کے ساتھ امن رکھنے کے معنی ہیں اس کی مرضی کے آگے کامل طور پر مجھک جانا جو کہ ہر قسم کی پاکیزگی اور نیکی کا منبع ہے۔بنی نوع انسان سے امن قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ دوسروں سے نیکی اور بھلائی کی جائے۔اس تحریک کے پیرو اس خیال کو غلط سمجھتے ہیں کہ (حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی صرف مشرقی لوگوں ہی کا حتی ہے ان کے نزدیک اسلامی تعلیم ایک عالمگیر تعلیم ہے اور مغرب کے لوگوں کے لئے بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔یہ مشنری یورپ اور امریکہ ملی سرگرم عمل ہیں۔اس تحریک میں شامل ہونے والوں کو اپنے مشاغل کی سر انجام دہی کی راہ میں ہرقسم کی تکلیف گوارا ہے۔بہت سے ممالک میں انہوں نے مساجد تعمیر کی ہیں۔یورپ میں ان کے مندرجہ ذیل مراکز ہیں۔ہمبرگ ، فرینکفورٹ، لندن ، زیورپ میں بھی ایک مسجد تعمیر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔اسی طرح کوپن ہیگن میں بھی ایک مسجد بنانے کی تجویز ہے۔امریکہ میں بارہ مراکز ہیں۔افریقہ کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر مشنری کام نہایت زوروں پر ہے جہاں بہت سے افراقی اسلام قبول کر رہے ہیں۔اسلامی مبلغین کی کاوشوں کا رد عمل یہاں مختلف ہے۔چودہ سال قبل جب مسٹر حافظ ہالینڈ پہنچے تھے تو کل و ٹیسٹ (CALVINIST) ایک کٹر عیسائی فرقہ کے اخبار نے پوچھا " کیا سرزمین -