تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 175
طاقت کا ایسا غیبی ہاتھ دکھایا کہ چرچ کی تمام کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں اور سے ماہ و خار وبائی ام بروز جمعہ بیگ میں ایک موزوں قطعہ کی باضابطہ منظوری ہوگئی ہے چنانچہ حافظ قدرت اللہ صاحب اپنی ایک رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ شاہ میں جب مسجد کے لئے زمین خریدنے کا معاملہ زیر غور تھا تو اس وقت بھی بعض لئے تھا تو بھی حالات ایسے رنگ میں ظاہر ہوئے جو ہمارے لئے ازدیاد ایمان کا موجب ہیں بیگ میں مسجد کے لئے مناسب جگہ کی تلاش کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑی تھی۔آخر مین اتفاق ایسا ہوا کہ ہماری توقعات سے بڑھ کر ایک نہایت عمدہ جگہ اس مرض کے لئے ہمیں بل گئی۔یہ جگہ ایک چرچ اور ایک اہم کیتھولک انسٹی ٹیوٹ کے نہ صرف قریب ملتی بلکہ انکے الناقة راستہ پر پڑتی تھی جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مذہبی حلقوں کی طرف سے اس کی مخالفت ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا مگر بیگ کی میونسپل کمیٹی کا جو ذمہ دار شخص تھا اس نے اس تمام مخات کا ایسا ذ مہ دارانہ مقابلہ کیا کہ آج بھی اس کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے تکلف کی بات یہ ہے کہ ہمیں ان مشکلات کا علم اس وقت ہوا جب فیصلہ ہو کر پریس کے ذریعہ یہ خبر منصہ شہود پر آگئی کہ کمیٹی کے ایک ہنگامی اجلاس میں یہ امر بالآخر طے پا گیا ہے کہ مجوزہ جگہ پر سجد تعمیر کر لی جائے کمیٹی کے اس تاریخی اجلاس میں کیتھولک مخالفت کے باوجود ڈاکٹریا کے سخت جو کمیٹی کے چیف ٹاؤن پلیز تھے ان کی پارٹی کو فتح حاصل ہوئی (BAKKE SCHUT) فالحمد لله على ذالك له مسجد بیگ کی ابتدائی خبر مسجد کے لئے زمین کا حصول ایک ایسا ہم واقعہ تھاکہ ولندیزی پریس نے اس کا خاص طور پر چر چا گیا چنانچہ یہ شیر ہالینڈ کے طرح اخبارات میں قریب سالہ اخباروں نے شائع کی جویہ میں ہالینڈ کے چوٹی کے اخباروں سے لے کر صوبہ جاتی انبالہ تک شامل تھے۔مثلاً ایک اخبار نے لکھا:۔له الفضل ۲۸ ا خاء / اکتوبر + ه رساله خالد بود اما می مارچ همتا اس مسجد کا رقبہ آٹھ سو مربع میٹر کے قریب ہے۔حضرت مصلوب عود کا منشاء مبارک تو اس سے زیادہ رقبہ لینے تھا مگر حالات نے اس کی اجازت نہ دی۔زمین یا موقع اور اچھے علاقہ میں ہے اور اوست ڈاؤن لان 10887 DEKLARN نامی سڑک پر واقع ہے ہے