تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 155 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 155

۱۵۵ جو میری آمد کی خبر پڑھتے ہی مجھے ملنے کے لئے آگئے اور کہا کہ میں ایک عرصہ تک انڈونیشیا میں آزاد خیال پادری کے فرائض انجام دے چکا ہوں اور کہ میں ہر مذہب و ملت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور ہر ایک شخص کو خواہ وہ کسی مذہب سے متعلق ہو اپنا بھائی خیال کرتا ہوں چنانچہ اُس نے اپنی مدد کا ہاتھ میرے لئے بڑھا دیا۔اسی طرح اسی سٹریٹ میں اور ایک خاندان سے واقفیت پیدا ہو گئی جس سے زبان کے حصول میں کافی مد و علی۔ایک دفعہ روٹرڈم بجانے کا موقعہ ملا تو وہاں اتفاقاً ایک دوست سے بات چل نکلی۔چنانچہ اس مختصر سے تعارف کے بعد انہوں نے چائے پر مجھے بلایا اور پھر تعلقات وسیع ہوتے گئے۔آخر اپنے اس دوست کی تقریب نکاح اور بعض دیگر خاندانی اجتماعوں میں شرکت کا موقعہ ملا جس سے بہت سے لوگوں سے تعارف کا موقعہ پیدا ہوگیا۔اسی طرح ایک انٹر نوشین فیمیلی سے تعلقات قائم کرنے کا موقعہ ملا انہیں مسلمانوں کے ساتھ خاص اُلفت ہے طبیعت بہت ہی مہمان نواز چنانچہ دونوں عیدوں کا انتظام اس فیملی نے بخوشی اپنے ہاں کیا اور مہمانوں کی تواضع کی۔ایک اور خاندان جس کا جماعت احمدیہ کی تاریخ کے ساتھ بھی ایک گونہ تعلق قائم ہوچکا ہے اور ڈپر مشن کے ساتھ مزید قریب کا تعلق ہے یہ وہ فیمیلی ہے جس نے ہما را قرآن کریم پورح زبان میں ترجمہ کیا ہے۔پہلے ان کی رہائش لندن میں تھی مگر تھوڑا عرصہ ہوا (میرے آنے کے بعد) وہ اس ملک میں مقیم ہو گئے مسز زمرمان جنہوں نے یہ مقدس کام سرانجام دیا وچ ہیں جو انگریزی، جرمن اور فرنچ زبانوں کے متعلق خوب مہارت رکھتی ہیں اور اٹیلین سے ایک گونہ واقفیت ہے۔آپکے خاوند مسٹر ز مرمان انگریز ہیں جنہوں نے وقتاً فوقتاً اس مقدس کام میں اپنی بیگم کو امداد دی۔ان کے ساتھ تعلقات کچھ برادرانہ سا رنگ اختیار کر گئے ہیں۔دونوں احباب بڑے احترام اور محبت سے پیش آتے ہیں۔اسی طرح بعض اور خاندان ہیں جن کا وجود کسی نہ کسی رنگ میں مفید ضرور ہے۔اس سلسلہ میں سب سے قبل مسٹر کو پکے کا ذکر کہنا چاہتا ہوں جن سے غائبانہ تعارف لندن میں ہی ہو چکا تھا۔آپ کی والدہ جرمن ہیں اور والد ڈچ - ایک عرصہ آپ نے جو منی میں بسر کیا پھر ایک