تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 154 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 154

۱۵۴ نیز لکھا:۔ہمیں ذاتی طور پر ان تبلیغ اسلام صاحب سے تعرض کرنے کی چنداں ضرورت نہیں مگر ہم ان کو یہ ضرور بتا دینا چاہتے ہیں کہ انہیں اپنے تبلیغی ارادوں کے ضمن میں ڈوح لوگوں سے کوئی خاص امید نہیں وابستہ کرنی چاہیئے۔اور اگر وہ کوئی ایسی امید لے کر آئے ہیں تو ہمیں ڈر ہے کہ انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس لئے بہتر ہے کہ وہ اپنا بستر بوریا ابھی سے باندھ لیں اور واپسی کی ٹھان لین لے پریس کے علاوہ سرکاری حلقوں نے بھی انتہائی تعصب کا مظاہرہ کیا بلکہ ڈچ وزیر اعظم نے شروع میں ایک بار حافظ قدرت اللہ صاحب سے دوران ملاقات یہاں تک کہہ ڈالا کہ ہالینڈ میں آپ کو وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ ہو گا آپ اپنے لئے کوئی اور ملک انتخاب کر لیں یہ اسلام ی را ماما نے اینڈی سرزمین مبلغ اسلام کی ابتدائی بیغی سرگرمیاں میں انوار قرانی پلانے کے لئے او میں اور بیگ اولین توجہ کے مختلف وچ خاندانوں اور شخصیتوں سے خوش گوار تعلقات پیدا کر کے انہیں دعوتِ اسلام دینے کی طرف دی۔ازاں بعد آہستہ آہستہ ہالینڈ کے دوسرے شہروں اور علاقوں کی طرف بھی تلبیغی سفر کئے اور پیغام حق پہنچایا۔حافظ صاحب کی این مساعی کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ماہ کے اندر اندر مشرقی ہالینڈ کی ایک مخلص خاتون اسلام میں داخل ہوگئیں جس نے قبول حق کرتے ہی مالی قربانی کا ایسا بہترین نمونہ پیش کیا کہ قرن اول کی مسلم خواتین کی مالی قربانیوں کی یاد تازہ ہوگئی۔مذکورہ بالا ابتدائی سرگرمیوں کا ذکر حافظ صاحب کی ایک رپورٹ میں ملتا ہے جو اخبار افضل کی ۲۲۹۲۴ فتح رودسمبر کی اشاعتوں میں موجود ہے۔اس اہم رپورٹ کے ضروری تھے ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔آپ نے لکھا کہ :- اس عرصہ میں خاص ملاقاتوں اور بعض مشہور احباب سے تعلقات پیدا کرنے کے علاوہ المختلف خاندانوں سے تعلقات پیدا کئے۔ان افراد میں سے ایک صاحب مسٹر کو ننگ ہیں مضمون محافظ قدرت اللہ صاب مطبوع ربه الد خالد ربوہ ارمان ر باره مثلا : له الفضل ۲۸ و فار جولائی 41974