تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 156
۱۵۶ خاصہ عرصہ اسلامی ممالک میں گزارا۔ایسی ماحول کا اثر تھا کہ آپ نے اسلام قبول کر لیا اور تب سے آپ اسلام کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور ارکان اسلام کو ادا کرنے کے پابند رہیں۔آپ نے میرے ساتھ برادرانہ ہمدردی کا پورا ثبوت دیا اور ابتدائی ایام میں ہفتہ وار اور کبھی پندرہ روزہ ایمسٹر ڈم سے صرف ملنے کی خاطر آتے رہے۔آپ کو احمدیت کی تعلیمات اور عقائد سے پوری واقعیت ہے اور قریباً ہر مسئلہ میں احمدیہ نقطہ نگاہ کے ساتھ متفق ہیں۔تمام اختلافات اور تفصیلات کو سمجھنے کے باوجود نماز میرے پیچھے ادا کرتے ہیں مگر ابھی آخری قدم اُٹھا نے میں کچھ ہچکچاہٹ سی محسوس کرتے ہیں خدا کرے کہ انہیں علی الاعلان احمدیت کا اعلان کرنے کی جلدی ہی توفیق ملے۔آمین لیے دوسرے دوست مسٹر العطاس ہیں جن کی مدد اور دوستانہ اور برادرانہ ہمدردی شروع سے میرے شامل حال رہی۔آپ لائیڈن یونیورسٹی میں تعلیم پاتے ہیں۔رہائش بھی لائیڈن میں ہے۔آپ کا اصل وطن حضر موت ہے مگر آپ کے والد انڈونیشیا میں تاجر ہیں۔مسٹر العطاس کی وجہ سے لائیڈن میں بہت سے تعلقات قائم کرنے کا موقعہ ملا۔مسٹر العطاس نے کچھ عرصہ ہوا اپنے ہاں بعض مسلم طلبہ کو اس قرض کے لئے جمع کرنا شروع کیا ( دو ہفتہ یا تین ہفتہ کے وقفہ کے بعد ، تا ئیکیں انہیں اسلام کے متعلق بعض مسائل سمجھا سکوں۔چنانچہ چار پانچ دفعہ ایسی مجلس میں شامل ہونے کا موقع ملا جو اپنے مقاصد کے لحاظ سے بہت مفید رہا۔مسٹر کو پے بھی بعض دفعہ ایمسٹرڈم سے اس درس ہیں شریک ہونے کے لئے آجاتے رہے اور رات وہیں قیام رہا۔اس ملک میں صوفی موومنٹ کا بھی کافی اثر ہے۔گوان کا اصلی ہیڈ کوارٹر تو سوئٹزر لینڈ میں ہے مگر ماحول اچھا پیدا ہو جانے کی وجہ سے ان کی مساعی کا عملی دائرہ عمل زیادہ تر اسی ملک میں ہے۔ان کا ایک رسالہ بھی ایمسٹرڈم سے نکلتا ہے اس کے ایڈیٹر خان بک نے جب میری خبر اخبار میں پڑھی تو مجھے ملاقات کے لئے انہوں نے اپنے مکان واقع واسے نامہ (مضان ہیگ میں دعوت دی۔چنانچہ مسٹر کوپے کی معیت میں ان سے ملاقات کی۔ے مسٹر کوچی نے جنوری ۱۹۴۷ء میں اسلام قبول کر لیا (الفضل در امان ۳۲۷ ث ) :