تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 136
۱۳۹ گرد پوش سے لیا گیا۔مسجد کی دیوار پر مسجد محمود کے نیچے کلر طلقیہ کی عبارت اسی طرح سبز دھات کے حروف میں نصب کی گئی ہے۔یہ کتبہ محترم شیخ رحمت اللہ صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے بڑی محنت سے سے کم سے کم وقت میں تیار کر کے بھجوا دیا تھا۔14 اگست کو آرٹسٹ اسے چوبی چبوترہ پر کھڑا نصب کر رہا تھا اس مرحلہ پر بعض حروف کی درستی کے لئے میں خود چبوترہ پر گیا خو د درستی کی۔مجھے معلوم نہ تھا کہ کس کیمرہ کا اس طرف رخ ہے لیکن معلوم ہوا کہ یہ نظر بھی فلمایا گیا تھا۔پس اخبارات اور ٹیلیویژن کے چرچا کے باعث سوئٹزر لینڈ کے لوگوں میں اس مسجد کے دیکھنے کا اشتیاق اور بڑھ گیا۔مورخه ۲۱ جون کو ریڈیو نے خواہش کی کہ میں ان کے سٹوڈیو میں احمدیت اور مسجد کی تاریخ کے بارہ میں مختصر پیغام ریکارڈ کروادوں تا ۲۲ کو وہ افتتاح کی تقریب کے بارہ میں خبر دیتے ہوئے اسے بھی شامل کر سکیں۔میں نے اس کی تعمیل میں پیغام ریکارڈ کروا دی۔محترم چوہدری محمد ظفر الدخان صاحب پراگ سے تشریف لا رہے تھے ائیر پورٹ پر خاکسار، محترم حافظ قدرت اللہ صاحب اور محترم چوہدری عبد اللطیف صاحب (مبلغین کے نمائندگان کے طور پر ) اور جماعت کے کچھ احباب موجود تھے پر ایس کے نمائندے اور فوٹو گرافر بھی پہنچ گئے تھے حکومت سوئٹزرلینڈ کی طرف سے چیف پر اٹو کول موجود تھے۔اقوام متحدہ میں وٹر اینڈ کے مبصر آج کل یہاں رخصت پر ہیں وہ بھی استقبال کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔محترم چو ہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا جہاز تقریباً پونے ایک بجے اُترا۔آپ روس اور مشرقی یورپ کے ایک لمبے سفر سے واپس آرہے تھے مگر آپ کے چہرہ پر تکان کے اثرات نہ تھے حسب معمول مشاش بشاش تھے۔آپ جب مشن ہاؤس پہنچے تو احباب باہر استقبال کے لئے منتظر تھے۔محترم چوہدری صاحب اڑھائی بجے پولیس کا نفرنس میں تشریف لائے جوشن کے دفتر کے کمرہ میں منعقد ہو رہی تھی۔کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔بین الاقوامی پریس ایجنسیوں ، سولیس پریس اینبیوں، زیورک سوئٹزرلینڈ کے دیگر مقامات کے بعض اہم اخبارات کے نمائندے بھی موجود تھے۔ہم نے مسیحی اخبارات کو بھی دعوت بھیجوائی تھی۔بعض ان کے نمائندے بھی شریک تھے چنانچہ ایک ایسے ہی صاحب نے اپنے ان تاثرات کا اظہار کیا کہ مسجد میں پریس کانفرنس بلائی گئی تو اتنے لوگ آگئے کہ کھڑے ہونے کے لئے بھی جگہ نہیں لیکن جب چیچ کی طرف سے کا نفرنس بلائی جاتی ہے اس وقت یہ لوگ توجہ ہی نہیں دیتے محترم چوہدری صاحب نے پریس کے سوالات کے جوابات دیئے مسٹر عبدالسلام میڈلین اور خاکسار بھی ساتھ موجود