تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 137 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 137

تھے بعض سوالات جوشن سے تعلق رکھتے تھے اُن کے جوابات خاکسار نے دیئے۔ریڈیو کے نمائندہ اور ہمارے امام مسجد فرینکفورٹ میاں مسعود احمد صاحب جہلمی نے یہ پریس کانفرنس ٹیپ ریکارڈ کی۔افتتاح کی تقریب کے لئے تین بجے کا وقت مقرر تھا۔مختلف ملکوں کے مسلمان کثیر تعداد میں جمع تھے۔اپنے احمدی احباب دُور دُور سے آئے ہوئے تھے مبلغین یورپ میں سے تین کا ذکر اوپر کر چکا ہوں ان کے علاوہ محرم چوہدری رحمت خاں صاحب امام مسجد لندن ، محترم کرم الہی صاحب ظفر مبلغ سپین ، محترم میر مسعود احمد صاحب رئیس التبلیغ سکنڈے نیویا، محترم عبد السلام میڈسن صاحب مبلغ ڈنمارک، محترم محمود سیف الاسلام ارکسن صاحب مبلغ سویڈن بھی شریک تقریب متھے محترم چوہدری عبد الرحمان صاحب واقف زندگی بھی تشریف لائے تھے جرمنی سے احمدی مصنف اور جرنلسٹ محمد ایس عبد اللہ اپنی بیگم صاحبہ اور بعض جرنلسٹ احباب اور ساربروکن ریڈیو کے نمائندہ کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔اسی طرح ایک اور جرمن خاتون محترمہ وینڈلٹ بھی تشریف لائی تھیں۔زیورک اور اس کے نواح بلکہ دور دور کے شہروں سے جو معززین شریک ہوئے ان کی فہرست طویل ہے۔ان میں اس شہر کے پریزیڈیٹ، اس کا نٹول کے صدر و سابق صدر، اراکین پارلیمنٹ ، شہر کی کونسل کے اراکین، ڈاکٹر صاحبان ، سفارت طونس اور سفارت پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری ، ڈچ قنصل برطانوی قنصلیٹ کے نمائندہ ، ڈومینکین قفصل وغیرہ ایک کثیر تعداد میں معززین موجود تھے۔یونیورسٹی اور فیڈرل درس گاہ کے طلبہ کے علاوہ مختلف کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والے مختلف ملکوں کے احباب بھی موجود تھے مسلمان احباب نے میزبانی کے جذبہ کا مظاہرہ کیا اور لیکچر روم کی اکثر نشستیں غیرمسلموں کے لئے خالی کر دی گئیں۔باہر کے دروازہ سے لے کر اوپر کی منزل کو آنے والی سیڑھیاں مسجد کے آگے خالی جگہ ہر طرف لوگ موجود تھے۔لاؤڈ سپیکر کا اہتمام تھا۔اس مبارک تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو خاکسار کے قدیمی رفیق کار محترم حافظ قدرت اللہ صاحب نے مخصوص پر اثر انداز میں فرمائی ، اس کے بعد یفا کسار نے اپنے افتتاحی خطاب میں منجملہ دیگر امور کے احمدیت کی مختصر تاریخ اور صلح موعود کی پیش گوئی بیان کی جو انگریزی اور جرمن و نوں زبانوں میں سائیکلو سٹائل کر کے شائع کر دی گئی تھی۔اس کے بعد محترم چو ہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے اپنی تقریر پڑھ کر سنائی۔اس کا جرمن ترجمہ پولیس اور پبلک کے پاس تھا اس لئے غیر زبان میں ہونے