تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 135
۱۳۵ روزنامه DI ETAT نے بڑے سائز کی تصویر اخبار کے آخری سرورق پر نمایاں طور پر شائع کی اور نیچے لکھا کہ زیورک کی چھتوں کے اوپر ہلال - زیورک میں با نگریسٹ کے محلہ میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے مسجد محمود سوئٹزرلینڈ کا کیا سيدنا المصلح الموعود کے عہد مبارک کی اس اہم مسجد کا نام مسجد محمود تجویز کیا گیا اور اس کی شاندار انتتاحی تقریب چوہدری محمد ظفراللہ خان مضار صدر جنرل اسمبلی ) ۱۲ احسان جون ما کو چوہدری محمد ظفر اللہ خاں 5144 کے ہاتھوں پر شوکت افتتاح صاحب کے ہاتھوں عمل میں آئی جس کی متصل روداد چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ انچارج سوئٹزرلینڈ مشن کے الفاظ میں دی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں :- ماہ جون کے شروع میں پولیس کے نام ایک چار ورقہ چھٹی تیار کر کے بھجوائی گئی جس میں احمدیت کی مختصر تاریخ اس کی عالمگیر علمی وتبلیغی و ترمیتی سرگرمیوں کا خا کہ دیا گیا۔افتتاح کے سلسلہ میں منعقد ہونیوالی تقاریب کے پروگرام میں نمائندگان پریس کو شمولیت کی دعوت دی گئی، الحمد للہ اس طریق سے پریس ، ریڈیو ٹیلیویژن سب ہماری فعال جماعت سے متعارف ہو گئے نہ صرف زیورک بلکہ باہر کے بعض اخبارات نے بھی اپنے نوٹوں میں اس سے استفادہ کیا۔محترمہ حافظ قدرت اللہ صاحب کے تعاون سے جرمنی اور ہالینڈ کے پریس کو بھی یہ میٹھی پہنچادی گئی۔سوئیں ٹیلیویژن نے یہ خواہش کی کہ اس تقریب سے قبل مسجد محمود کے بارہ میں انہیں فلم تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ ۸ ارجون کو دن کے وقت اور پھر رات کو فلش لائٹ کی روشنی میں کئی گھنٹے لگا کر انہوں نے یہ فلم تیار کی جیسے 19 جون کی شب کو دکھایا گیا۔احمدیت کی مختصر تاریخ سے تو وہ پہلے ہی واقف ہوگئے تھے لیکن انہیں نوٹو بھی مطلوب تھے۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے محترم امیر صاحب جماعت احمدیہ کراچی اور خدام الاحمدیہ کراچی کوکو گذشتہ سال انہوں نے اپنا اہم خاکسار کو بھجوا دیا تھا وہ اس موقعہ پر کام آیا۔اس میں سے ٹیلیویژن نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام، حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت مصلح الموعود اطال اللہ بقارہ کے فوٹو لئے۔افتتاح کی خبر کے لحاظ سے محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے فوٹو کی ضرورت تھی جو اُن کی اسلام کے بارہ میں تازہ شہرہ آفاق تصنیف کے له الفضل ١ هجرت می ۶۱۹۶۳