تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 131
الحمدللہ کہ جماعت احمدیہ کے دوست اس مبارک تحریک میں دل کھول کر حصہ لے رہے ہیں در اصل یہ سجد لندن کی مسجد کے بعد یورپ کی مسجدوں میں ایک خاص امتیاز دستی ہے کیونکہ ایک تو یہ سجد یورپ کے وسطی ملک میں واقع ہے جس کا چاروں طرف اثر پڑتا ہے اور دوسرے یہ سجد ایک ایسے ملک میں بنائی جارہی ہے جو عرصہ راز سے امن کا گہوارہ رہا ہے پس در حقیقت یہ مسجد نہ صرف ہماری بڑی دعاؤں کی مستحق ہے بلکہ اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی امداد کے لئے دل کھول کر چندہ دیا جائے سے موٹر ر لینڈ کے پادری جو مبلغ اسلام کی تبلیغی سرگرمیوں سوئٹزر لینڈ کے عیسائی چر جج کار و تمل خصوصا جزئی ترجم قرآن کے باعث سخت پریشان ہو رہے تھے مسجد کے سنگ بنیاد پر اور بھی مشوش ہو گئے۔عیسائی چرچ کا خانہ خدا کی تاسیس پر کیار وشمل تھا اُس کا اندازہ سوئٹزرلینڈ کے مشہور عیسائی اخبار SCHWEI ZER EUANGELIST ( اکتوبر (4) EUANGELISTAILS, ) کے درج ذیل نوٹ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے :- ہمیں ایک اعلان کے ذریعہ پتہ چلا ہے کہ حال ہی میں مختلف یورپی ممالک میں ۳۷ مقامی باشندوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ان میں سے اکثر و سلم سے اڈے نیوین ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر ہم ان تمام مساجد کو مد نظر رکھ کر جو گزشتہ سالوں میں یورپ کے ان عیسائی ممالک میں تعمیر ہوئی ہیں دیکھیں تو نومسلموں کی یہ تعداد بہت تھوڑی ہے جرمنی میں تعمیر شدہ اور زیرتعمیر ساجد کی مجموعی تعداد سات ہے، لندن، دوی بیگ اور یہ سنکی میں بھی مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورک میں بھی ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ران مساجد میں اکثر مساجد گزشتہ تین سال کے عرصہ میں ہی تعمیر ہوئی ہیں یا انہیں تعمیر کرنے کی تجویز منصہ شہود پر آئی ہے۔یہ مساجد اس امر کی آئینہ دار ہیں کہ یورپ میں اسلامی مشنوں کا ایک جال پھیلایا جا رہا ہے۔ان مشنوں کے قائم کرنے والے مسلمانوں کے صف اول کے دو بڑے گروہوں یعنی شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق نہیں رکھتے، ان کا تعلق مسلمانوں الفضل ٢٠ تبوك / ستمبر ها مرا ۶۱۹۶۳