تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 130
۱۳۰ حضرت بیگم صاحبہ کے قلب مطہر سے جو دعا نکلی ہے وہ ہر احمدی کے دل میں درد کی ٹیس پیدا کرتی ہے۔اس کی وجہ سے میرے دل میں شدید تڑپ پیدا ہوگئی ہے کہ کاش ایسا ہی ہو اگر اللہ تعالیٰ یہ دن لے آئے تو میری خوش نصیبی میں کیا شبہ ! یہ مبارک دن ساری دنیا کے احمدیوں کے لئے ایک، مسرت کا دن ہو گا۔کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مسیح پاک علیہ اسلام کے جگر گوشہ کی یہ پر سوز دعا، ایک درد مند ین کی بارگاہ الہی میں ٹپکار، ایک مخلصہ کے قلب کی صدا حس سے ہر احمدی کے قلب کی صدا ہم آہنگ ہے ، سُن لے! حضور اطال الله بقارہ کی ولادت با سعادت سے قبل سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد کی دیوار پر محمود لکھا دیکھا تھا۔بیشک یہ جماعت کی امامت کی پیش گوئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں بھی اس کو پورا کیا کہ سید نا حضرت محمود ایڈا اللہ الودو کو مشرق و مغرب میں جابجا مساجد تعمیر کر وانے کی توفیق بخشی۔گویا اس لحاظ سے ان مساجد کی دیوار پر محمود کا نام ہی تحریر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی پیش گوئیوں کے ماتحت اس پیسر موعود اس اولو العزم امام کو مراکز تثلیث میں خدائے واحد کے نام کی منادی کے لئے مساجد بنانے اور روحانی لحاظ سے ایک وسیع عالمی نظام قائم کرنے کی توفیق بخشی ہے اب وہ خدائے قدیر اپنی قدرت کا ملہ سے اسے حضور کی آنکھوں کے سامنے پر وان چڑھنا بھی دکھائے۔کامل صحت بخشے اور صحت و عافیت کے ساتھ نبی کا میاب با مراد عمرد سے تا نہ صرف یورک کی مسجد میں آپ کی تلاوت قرآن پاک گونج پیدا کرے بلکہ یورپ اور دنیا بھر میں ان مقدس ہونٹوں سے نکلی ہوئی تلاوت دیر تک گونج پیدا کرتی رہے، آمین " سے حث کی مسجد سوئٹزرلینڈ کی تعمیر میں دنیا بھر کے احمدیوں چند مسجد کیلئے حضرت مرزا بشیر احمدرضا کی نے اپنی گذشتہ روایات کے مطابق سرگرم حصہ پر زور اور موثر تحریک یا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک مکتوب ه گرامی میں جو آپ نے ۱۶ تبوک /ستمبر کو وکیل المال کے نام رقم فرمایا چندہ مسجد میں حصہ لینے کے لئے ایک پُر زور اور موثر تحریک فرمائی چنانچہ آپ نے لکھا :- اما ه الفضل ٢٨ تبوك /ستمبر ۶۱۹۶۴