تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 132 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 132

کی ایک ایسی جماعت سے ہے جنہیں بالعموم بدعتی سمجھا جاتا ہے۔اس جماعت کا نام جماعت احمدیہ ہے۔یورپ کی اکثر مساعد اس جماعت نے ہی تعمیر کی ہیں۔یہ جماعت آج سے ستر سال قبل بر صغیر پاک و ہند میں معرض وجود میں آئی تھی۔اس جماعت کے افراد کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔اس کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ حقیقی اسلام کی علمبردار ہے۔اپنے اس دعوئی کی رو سے یہ نوع انسان کی فلاح اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے کوشاں ہے۔احمدیہ تحریک اول و آخر ایک مشنری تحریک ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہر خاندان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے میں سے کم از کم ایک فرد ایسا پیش کرے جو تبلیغ اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف رکھے یہ عقل کو اپیل کرنے کی بنیاد پر اپنے مشن بالعموم اسلامی ممالک میں نہیں بلکہ افریقی ممالک میں اور ان میں سے بھی زیادہ تر مغربی افریقہ میں اور پھر یورپ اور امریکہ میں قائم کر رہے ہیں۔ان کے یورپی مراکز زیورک، لندن اور کوپن ہیگن میں قائم ہیں ان میں سے زیورک کا مرکز وسطی یورپ اور اٹلی کے علاقہ کو کنٹرول کرتا ہے۔لندن کے مرکز کا رابطہ سارے مغربی یورپ سے ہے اور کوپن ہیگن کے مرکز کے دائرہ عمل میں شمالی یورپ کا تمام علاقہ شامل ہے۔ان اسلامی مشغوں کو اب تک جو کامیابی ہوئی ہے اسے کوئی عظیم یا نمایاں کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا ڈنمارک کا نو مسلم گروپ ۲۲۰ ڈومنیش مسلمانوں پر تمل ہے۔کوپن ہیگن میں جو دوسرے مسلمان رہتے ہیں وہ زیادہ تر غرب باشندے ہیں بنائر کے دوران زیورک میں عیسائیوں کے علاوہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے صرف ۱۵۷ باشندے شمار کئے گئے تھے اُن کا ایک قلیل حصہ اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔یورپ کی مساجد صرف اس غرض کے لئے ہیں قائم نہیں کی گئی ہیں کہ مسلمان ان میں عبادت کریں بلکہ تبلیغ اسلام کی ساری مہم ان مساجد کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔مساجد سے ملحق کلب کے کمرے اور لائبریریاں وغیرہ بھی ہوتی ہیں تا کہ ان میں جماعت کے افراد باہم مل کر اپنی مسائل اور سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔یورپ کے عیسائی ممالک میں اسلام کے یہ نمائندہ سے بدھ مت والوں کے بر خلاف عیسائیت کا مقابلہ کرنے میں بہت پیش پیش ہیں۔ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ مسیح کی اصل تعلیم عہد نامہ جدید کے واسطہ سے تحریف کا شکار ہونے کے بعد بدلی ہوئی شکل میں آگے پھیلی ہے۔یہ سیع کی صلیبی موت کے