تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 129
۱۲۹ عرف مسجد کی اس اینٹ و کنکریٹ کی عمارت کو شایان شان طریق پر مکمل کریں اور فرنش کریں بلکہ اس کو ہمیشہ نمازیوں سے آباد رکھیں اور اسے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے ایک مؤثر مرکز کے طور پر قائم رکھنے کی سعی کریں جن کے لئے طویل اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے۔حضرت بیگم صاحبہ ممدوحہ نے اپنے ایک نوٹ میں تحریر فرمایا۔بنیاد کے تعلق کی بناء پر کچھ ایسی ذمہ داری محسوس ہو رہی ہے جیسے میرے ہی کاندھوں پر بوجھ ہے ؟ جو ذمہ داری ہمارے پیارے آقا کی صاحبزادی پر بنیاد رکھنے سے عائد ہوئی ہے ہم سب احمدی اپنے آقا سے تعلق کی نسبت سے اس میں شریک ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے با حسن عہدہ برآ ہونے کی توفیق بخشے۔آمین! حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کو اللہ تعالیٰ نے بہت نکتہ سنج طبیعت بخشی ہے آپ نے اس موقعہ پر یہ دعا تحریر فرمائی ہے :- اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے عزیزہ امتہ الحفیظ بیگم کے سنگ بنیاد رکھنے کو مبارک اور مثمر نمرات حسنہ کیسے اور ہمشیرہ کے نام کی طرح اس مسجد کو یورپ کے اس علاقہ کے لئے حفاظت کا قلعہ بنا دے۔آمین " حضرت بیگم صاحبہ مدظلہ العالی اپنے ایک مکتوب میں لنڈن سے تحریر فرماتی ہیں:۔مجھے بے حد خوشی ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو اس مسجد کو شروع کرنے کی توفیق عطا فرمائی ورنہ مبلغ تو اس ملک میں عرصہ دراز سے تھے۔یہ اللہ تعالی کا آپ پر خاص احسان ہے میری دعا ہے کہ آپ ہی کے ہاتھوں سے یہ پایہ تکمیل کو پہنچے اور اس کا افتتاح بنیاد کے موقعہ سے بھی شاندار اور خوشی کا موجب ہو ئیں تو یہ دعا کر رہی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ستید نابھائی صاحب ہی کو کامل صحت عطا فرمائے اور رسم افتتاح اُن کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائے۔اللہ تعالیٰ قادر ہے اگر ایسا ہو جائے تو آپ کی خوش نصیبی قابل رشک ہوگی یہ