تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 128
۱۲۸ سے تصویری زبان میں توحید و تثلیث کے مقابلہ کا اظہار ہے اور یہی چیز ہے جس کو سوئٹر لینڈ میں فطری طور پر محسوس کیا جارہا ہے، یہاں کے لوگوں کے سوالات اُن کے اس احساس کے آئینہ دار ہیں ! سولیس پولیس نے اس واقعہ کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ملک کے ایک سرے سے لیکر دوسرے تک جرمن فرنچ اور اطالوی زبان کے اخبارات نے یہ خبر شائع کی بعض نے تبصرہ بھی کیا ہے اور بعض نے مضمون لکھتے ہیں۔بعض اخبارات نے تقریب کی تصاویر شائع کی ہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۷۲ ایسے اخبارات یا اُن کے تراشے موہ دل ہو چکے ہیں جن میں یہ خبر شائع ہوئی ہے، الحمد لله پریس کے نقطہ نظر سے سولیس کے لئے اس خبر کی اہمیت کا انداز مندرجہ فریل واقعہ سے ہو سکتا ہے۔اخبار سرشر ( ZURCHER WOCHE ) نے جو زیورک کا اپنی تعداد اور اثر کے لحاظ سے بہت وقیح ۲۴ صفحات کا ہفت روزہ ہے، ۲۸ اگست کو اس بناء پر میرا انٹرویو لی کہ مسجد کے باعث لوگوں میں اسلام اور جماعت کے متعلق کو ائف معلوم کرنے کی جستجو پیدا ہوگئی ہے۔یہ انٹرویو اور اگست کے پرچہ میں شائع ہوا۔یہ اخبار ہرہفتہ نیا پر چہ شائع ہونے پر پوسٹر شائع کرتا ہے جس میں اس ہفتہ کے پرچہ کے اہم مضامین کے عنوان دیتے ہوے ہوتے ہیں تا لوگوں میں اس کو خریدنے کے لئے کشش پیدا ہو۔یہ پوسٹر تمام ٹراموں اور نیبوں میں لٹک رہا ہوتا ہے اور اس اخبار کے بیچنے والے ایجنٹ اپنی دکانوں کے باہر نمایاں جگہ پر اسے لگاتے ہیں۔۱۳۱ اگست کو یہ پوسٹر زیورک میں تمام جگہوں پر ایک ہفتہ کے لئے لگا دیا گیا۔اس پوسٹر کا پہلا جلی عنوان یہ تھا " زیورک میں مسجد کیوں ؟ " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی میشرا ولا دمیں سے ایک کے اس موقعہ پر لمبا سفر کر کے سوئٹزر لینڈمیں پہنچ جانا اور اپنے دست مبارک سے یورپ کے اس امیر ترین اور حسین ترین خطہ میں جسے بعض قلب یورپ کہتے ہیں مسجد کی بنیاد رکھنا ز یورک یا سوئٹر لینڈ کے عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے لئے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم نہ