تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 101
اور اس کی جزئیات پر نظر رکھنے کے قابل وہی شخص ہو سکتا ہے جس کی تربیت اسلامی ماحول میں ہوئی ہو دراصل یہ ترجمہ بھی پرانے تراجم سے کوئی خاص اختلاف نہیں رکھتا اور جہاں کہیں تھوڑا بہت اختلاف بھی ہے اسے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں۔سورۃ فاتحہ کے مطالعہ کے وقت بھی کوئی خاص فرق معلوم کرنا مشکل ہے۔جہاں نئے ترجمہ کا ہر لحاظ سے غیر متقدم کیا گیا ہے وہاں 4 صفحات پرمشتمل دیباچہ جسے مرزا محمود احمد (خلیفہ ثانی نے تصنیف کیا ہے ایسے تبلیغی پراپیگنڈا پر مبنی ہے جس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ناشرین کو واقعی اس کا حق پہنچتا ہے لیکن کیا ہم بھی اس پروپیگینڈا کو جانچنے اور اس پر تنقید کرنے کا حق رکھتے ہیں ؟ دنیا چہ کا دوسراحعه مجمل طور پر قرآنی تعلیمات کو پیش کرتا ہے جو یسوع مسیح کی مخصوص تعلیم سے ٹکراتی ہیں۔پہلے حصہ میں بتایا گیا ہے کہ پرانی کتب مقدسہ کے ہوتے ہوئے نئی کتاب قرآن مجید کی کیا ضرورت تھی۔پرانے مذاہب کا اختلاف اس بات کا متقاضی تھا کہ کوئی نیا مذہب ان کی جگہ لے جس کا دائرہ عمل تمام اقوام عالم ہوں کیونکہ بائبل اور انجیل کے خدا خاص خاص اقوام کے قومی خدا تھے حتی کہ جب شیر بپتسمہ دینے کے لئے اقوام کا ذکر کرتے تو اُن کا مطلب بنی اسرائیل کے قبائل ہوا کرتا تھا۔اسی طرح ویدوں ، زرگشت اور کنفیوشس کا حلقہ عمل خاص اقوام تک محدود رہا صرف اسلام ہی تو عیدی الٹی کا معلم ہے اور اس کا پیغام ساری دنیا کے لئے ہے۔پہلی کتب میں بہت سی خامیاں ہیں۔اس کے علاوہ یہ متضاد امور سے بھر گور ہیں۔خالص اللی الفاظ ملتی ہیں قائم نہیں رہے۔ان کی تعلیم وحشیانہ غیر مقبول اور غلاط فلسفہ الہیات پر مشتمل ہے۔یہی وجہ تھی کہ ایک کامل و مکمل کتاب کی ضرورت پیش آئی جو قرآن مجید کے وجود سے پوری ہوئی باقی تمام مذاہب مکمل اور آخری مذہب ہونے کے دعویدار نہیں ہیں بلکہ ان سب میں ایک موعود نبی کی خبر موجو د ہے جو (حضرت) محمد (صلعم) ہیں جن کے ذریعہ آخری فتح اسلام کے حق میں مقدر ہو چکی ہے۔تاریخ کے یہ اوراق خواہ کتنے ہی حیران کن ہوں لیکن یہ تصویر کسی طور پر سامنے آئی ؟ اس بارہ میں یہ کہنا ضروری ہے کہ (حضرت) مرزا احمد (علیہ السلام ) ان معاملات کو ناموزوں پیمانوں سے