تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 100
میکس اشیح کی زندگی کے بارہ میں اسی طرح کے اور غلط خیالات بھی ان میں پائے جاتے ہیں) آپ نے ۱۲۰ سال کی عمر کے بعد کشمیر میں وفات پائی جہاں سرینگر شہر میں دفن ہوئے اب تک ان کا مقبرہ موجود ہے لیکن غلطی سے اس مقبرہ کو یوز آصف کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔دوھ۔جہاد یعنی جنگ مقدس کا استعمال مفکرین کے استیصال کے لئے ناجائز ہے۔اسلام کی تبلیغ قرآنی دلائل کی روشنی میں صرف امن و آشتی سے ہی کی جانی چاہئیے۔سوم: موعود صدی حضرت احمد ہیں جو یسوع کے مشیل اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش حقیقی ہیں بر خلاف عام مسلمانوں کے بو ایسا عقیدہ نہیں رکھتے ہیں۔گو جماعت احمدیہ قرآن کریم کی تشریحات کے بارہ میں آزادی کی قائل ہے لیکن ان کا کوئی عقیدہ اسلام کے منافی نہیں مسلمانوں کے عام فرائض نماز، روزہ اور زکواہ کے علاوہ جماعت احمدیہ کی طرف سے دین داری اور اخلاق فاضلہ پر خاص زور دیا جاتا ہے اور ہر فرد و قوم کے ساتھ پر امن برتاؤ کرتے کی تلقین کی بھاتی ہے۔اس طور پر جماعت احمدیہ جو اسلام ہی کا ایک فرقہ ہے اور اصلاحی تحریک ہے اپنے آپ کو دلچسپ طریق پریشں کرتی ہے۔پرانی رسومات کے خلاف یہ جماعت اسلام کو محض مذہب تک محدود رکھتی ہے اور ان کا یہ استدلال قرآنی تعلیم پر مبنی ہے۔حکومت برطانیہ نے بھی جماعت احمدیہ کے اس موقف کو تسلیم کیا ہے کہ جماعت متشائمہ سے ہی اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف رہی ہے اور انہوں نے سیاسیات ملکی میں حصہ نہ لے کر یہ کام اور لوگوں کے سپر د رکھا ہے۔عالیہ ترجمہ القرآن بھی ان کی تبلیغی کارروائیوں کا ہی ایک اہم حصہ ہے مشہور و معروف مشرقی علوم کی اشاعت کی ذمہ دار فرم : OTTO HARRASSONSITE نے جو پہلے پہل LEIPZIG میں قائم ہوئی تھی اس کتاب کو خوبصورتی اور نفاست کا لباس پہنایا ہے۔یہ ترجمہ جو عربی متن کے ساتھ ہے انڈکس ، مبشوط دنیا چہ اور تشریح الفاظ کے ساتھ رکسون کی لچک دار جلد میں خوبصورت طباعت کے ساتھ اور باریک کا غذ پر شائع کیا گیا ہے اور اپنی تمام خصوصیات کے باوجود نہایت تھوڑی قیمت پر میسر آتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ پہلا جامع ترجمہ ہے جو مسلمانوں کے زعم میں یور میں اقوام کے سامنے محمد (صل اللہ علیہ وسلم) کی تعلیم کو پیش کرتا ہے۔اگرچہ عربی زبان کے اسلوب و محاورات کو جانچنے