تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 102
١٠٢ ناپتے ہیں۔وہ اپنے خیال میں اگر کوئی معمولی سی خامی ان کتب میں دیکھتے ہیں جو مقابلہ کے وقت انہیں نظر آتی ہے اس کے متعلق وہ یک طرفہ نظریہ قائم کر لیتے ہیں اور اکثر اوقات ان کا فیصا معمولی اور نامتنا طریق پر ہوتا ہے۔واقعہ یہ امر صداقت پر مبنی نہیں کہ عہد نامہ عتیق جس کو جمع کرنے پر ایک ہزار برس لگے متضاد امور مشتمل اور عہد نامہ جدید میں بہت سے اور لوگوں کے کلام کا دخل ہے۔ہر وہ بات جس سے قومی حدبندی کی تنقیض ہوتی ہے اس سے احتراز کیا گیا ہے۔مثلاً کیسعیاہ ہے یا ملاقی 1 : 11 یا اس کی غلط تعبیریں کی گئی ہیں۔مثلاً متی ۲۸ : ۱۹ - دوسری طرف فریضہ جہاد پر خاموشی اختیار کی گئی ہے جس کے ذریعہ اسلام کو محمد رسول اللہ صلعم کی شروع عمدنی زندگی سے ہی بزور شمشیر پھیلایا گیا اسلام کے اس اہم مسئلہ میں بڑی آسانی سے اصلاح کر دی گئی ہے۔مزید یہ زور دیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے بھاؤ وگری کے مرتکب کو جو موت کی سزا کا حکم توریت نے دیا ہے (خروج ۲۲:۱۸) یہ وحشت و بربریت پر مبنی ہے کیونکہ حقیقی جادوگر کبھی ہستی پر ظاہر نہیں ہوئے۔البتہ توریت کی اس تعزیر کا اطلاق ان فن کاروں پر ہوتا ہے جو اپنی شعبدہ بازیوں سے لوگوں کے لئے سامان تفریح بہم پہنچاتے ہیں۔لیکن آخری دونوں سورتوں کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ خود (حضرت محمد سحر کا ہے یا اس سے ملیتی ملتی کسی شے کے وجود کو تسلیم کرتے رہے ہیں۔عہد نامہ جدید کے پیرے مستی ۱۲ : ۴۷ اور یوحنا ۲ : ۳ پر سخت نقطه چینی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس میں ماں کی عزت کو برقرار نہیں رکھا گیا لیکن حقوق نسواں سے متعلق قرآنی دلائل (ص) چوتھی سورت کے ہوتے ہوئے بہت کم سچائی پر مبنی نظر آتے ہیں۔اس طرح نہ صرف اسلام بلکہ قرآن کی ایک معیاری اور خوبصورت تصویر کو پیش کیا گیا ہے اور سارے قرآن کو ایسے ربط باہمی سے منسلک قرار دیا گیا ہے جس سے (پڑھنے والے کو منگتی اور مدنی زندگی میں نازل ہونے والی سورتوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آسکتا۔نہ اسے ان اہم مقامات کا پتہ لگ سکتا ہے جہاں موضوع سے ہٹ کر نیا موضوع چھیڑا گیا ہے۔نہ قاری کو ان دلچسپ تبدیلیوں پر آگا ہی ہو سکتی ہے جومحمد (صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالات میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی رہی ہیں مثلا دوسرے i