تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 99 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 99

44 شریعیت اور (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کامل متبع ہیں۔اور آپ کوئی نیا قانون لے کر نہیں آئے۔گویا اس طرح وہ اپنے آپ کو صرف تنبیہہ کرنے والا سمجھتے رہے جسے نبی پاک کے بروز کامل کی صورت میں قرآن کریم کی پیش گوئیوں کے مطابق مسیح اور مہدی ہو کر آنا تھا اور جس کا کام مادی دنیا میں صرف روحانی بیچ ہونا تھا۔آپ نے اپنی پیش گوئی کے ذریعہ اطلاع دی تھی کہ آپ کی جماعت زمین کے کناروں تک پھیلے گی اور آپ کے متبعین کو قرب الہی حاصل ہوگا۔اس پیغام ربانی کے ساتھ آپ کا ظور نشہ میں آپ کے اپنے گاؤں میں ہوا اور آپ نے اس وقت ان نشانات و معجزات کا ذکر کیا جن سے آپ کے مشن اور پیش گوئیوں کی صداقت کا اظہار ہوتا تھا ابتدائی مخالفت کے باوجود آپ کی جماعت پھیلتی ہی گئی حتی کہ ہندوستان اور بیرونی مسلم دنیا میں اسکی شاخیں قائم ہوگئیں۔ہ میں آپ نے جماعت کے خلیفہ (امام) کی حیثیت سے بعیت لینی شروع کی 14 میں آپ کے پہلے خلیفہ (حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ) کی وفات پر جماعت میں کچھ اختلاف پیدا ہو گیا اور کچھ لوگ جنہیں بعد میں لاہوری پارٹی کے نام سے موسوم کیا گیا اس وجہ سے الگ ہو گئے کہ وہ حضرت احمد کو نبی ماننا پسند نہ کرتے تھے بلکہ صرف مصلح سمجھتے تھے جماعت قادیان متفقہ طور پر حضرت احمد کے فرزند (حضرت) مرزا محمود احمد کے ہاتھ پر جمع ہوئی اور آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔کہا جاتا ہے کہ آپ کی پیدائش سے قبل ہی خدا تعالیٰ نے آپ کے موعود خلیفہ ہونے کے متعلق خبر دے دی تھی۔آپ ہی کے عہد خلافت میں اسلام کا مشن یورپ میں قائم ہوا جس کا مرکز انگلستان ہے لیکن مشن کا کام فرانسی ، سپین، ہالینڈ، جرمنی اور کچھ سال سے سوئٹزر لینڈ میں بھی جاری ہے اسی طرح شمالی اور جنوبی امریکہ میں بھی جماعت تبلیغ کا کام کر رہی ہے۔جماعت احمدیہ کے عقائد کی بنیاد اسلام کی معروف تعلیم پر ہے۔صرف تین انور میں اختلاف پایا جاتا ہے :۔اول : یسوع مسیح جو خدا کے نبی اور (حضرت محمد (مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل بطور ارہا ص آئے تھے۔وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ ان کی حالت وفات یافتہ شخص کے مشابہ ہوگئی تھی وہ اپنی قبر سے اٹھ کر مشرق کی جانب روانہ ہو گئے تاکہ کشمیر میں اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو جاری رکھ