تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 85
۸۵ ایک شخص نمودار ہو گا جو بہت جھوٹ بولے گا اور ایک آنکھ سے کانا ہو گا۔کیا اس سے یہ معلوم نہیں۔وہ ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یورپ میں مادیت کے ظہور کو قبل از وقت بھانپ لیا تھا۔مادیت جواب نخستگی اور بدحالی کے عالم میں ٹھوکریں کھاتی ہے کیونکہ ایک آنکھ سے کافی ہے۔اور روح کی دات نظر نہیں کرتی مغرب کے خلاف یہ کوئی تو این آمیز کلمہ نہیں جب یہ کہا جائے کہ یورپ کی ایک آنکھ تو تیز اور صاف دیکھتی ہے لیکن دوسری ظلمت سے نور کو شناخت نہیں کر سکتی۔کیا یہ تعجب انگیز امر ہیں کہ مغربی اقوام نے پہاڑوں کی بلندیاں اور سمندروں کی گہرائیاں تو سر کرلیں پر نہ بجھیں تو اپنے نفس کو۔وہ ہر حادثہ کا سبب تلاش کرتے ہیں اور واقعات کو سائنس کی تحقیقات کی روشنی میں دیکھنا پسند کرتے ہیں تحقیق کے اس جنوں کو برا قرار نہ دیا جاتا اگر زندگی کے دوسرے پہلو کی جستجو بھی اسی جوش و خروش سے ہوتی۔یہ لوگ اگر سمندروں کی گہرائیوں سے موتی نکال لاتے ہیں تو اُن کے لئے خدا کی تلاش کیوں ممکن نہیں ؟۔۔۔انسان کو اب نئے میرے سے کوشش کرنی چاہئیے اور ایک نئی بنیاد پر اگر اتحاد عالم کی کو ئی بنیا دیل سکے تو سب اقوام کی یہ خوش قسمتی ہو گی۔ہاں یہ بناء محض اسی صورت میں قابل اعتماد ہوسکتی ہے جب یہ انسانی دماغ کی اختراع نہ ہو بلکہ آسمانی الهام پر مبنی ہو۔۔۔انسان پر بوجہ آزاد ہونے کے بھاری ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے آپ کو انسان ثابت کرے صنعت، سائنس اور تمدن تبھی مفید ہیں اگر ہم اپنی خواہشات کو صحیح راستوں پر چھلائیں۔یہ چیز ہے جس کی مغربی ممالک کو بالخصوص ضرورت ہے۔میں دوہراتا ہوں کہ ہم پاکستانی ماوتیت کے عالم میں یورپ کو قطعاً حقیر نہیں جانتے۔ہمارے لئے مایوس ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔ایک مومن بہت نہیں ہارسکتا، وہ اس یقین کی چٹان پر قائم ہے کہ خدا ہماری مدد کرے گا۔خدا صرف ہندوستانیوں یا مصریوں ہی کا خدا نہیں، وہ یورپ کا بھی خدا ہے ہم خواہ اسے چھوڑ دیں لیکن وہ ہمیں ترک نہیں کرتا۔وہ صرف ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے فرمانبردار رہیں جونہی انسانیت خدا کی طرف جھکے گی اس کی سب مشکلات خود نخود رفع ہو جائیں گی۔شاید یورپ اِس میدان میں بھی ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔اگر یورپ پہنچے خدا کی تلاش