تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 84 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 84

M بڑھنے لگی۔ابتدا میں یہ اجلاس زیورچ میں کئے جاتے تھے مگر بعد ازاں برن ، بازل، باؤں، ونڈ تیمور ، سینٹ گالن ، شاف ہاؤزن میں بھی ان کا انعقاد عمل میں لایا گیا اور ہر مقام پر کامیاب رہے اور ان سے تبلیغ و اشاعت اسلام کی ہم کو تیز کرنے میں بھاری مرد ملی۔جو منی میں ابھی مستقل میشن کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا کہ خط و سوئٹرز لینڈ مشن کے ذریعہ کتابت کے ذرید کم و بیش بین افراد پرمشتمل ایک جماعت جرمنی میں اشاعت اسلام) قائم ہو چکی تھی جس کی دیکھ بھال کے لئے شیخ نا صراح صاحب کنٹرول کمشن جرمنی سے اجازت لے کر گا ہے گا ہے تشریف لے جاتے رہے ہے اس دوران میں آپ کو جو منی میں اشاعت اسلام کے متعدد مواقع میسر آئے بلکہ ایک بار تو ہمبرگ ریڈیو نے آپ کی ایک تقریر یعنی نشر کی، تقریر کا موضوع تھا یورپی ممالک میری نظر میں: اس تقریر کے بعض اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں تا معلوم ہو سکے کہ مجاہدین احمدیت مغربی دنیا کو کس جذبہ اور قوت و شوکت سے خدائے واحد ویگانہ کا پیغام پہنچاتے ہیں :- آج یورپ خستہ حالی میں ہے۔جرمنی میں جو تباہی اور ہولناک بر بادی نظر آرہی ہے وہ یور میں اقوام کی معروف محنت و قابلیت کی متناقض ہے۔اس صورت حالات کی اس قوت استعماری سے مطابقت دکھلانا مشکل ہے جس کی بدولت یورپ کو صنعتی ترقی حاصل ہوئی۔یکں اپنے نفس سے یہ سوال کرتا ہوں کہ یورپ کی صنعت و سائنس کس کام کی اگر اس کے نتیجہ میں پائدار امن حاصل نہیں ہوا ؟ اس میں سائنس کا قصور نہیں، ہم اسے ملزم نہیں کر سکتے۔بنیادی طور پر کہیں کوئی نقص ہے۔یورپ نے مادی ترقی کو ایک خوشحال سوسائٹی کی بنیاد سمجھا۔آج یورپ مادیت میں اس قدر مستغرق ہو چکا ہے کہ روح کی طرف توجہ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔۔۔روحانی دائرہ میں میں یورپ کو بہت قلاش پاتا ہوں۔اس موقع پر مجھے خدا کے رسول محمد صلے اللہ علیہ وسلم کا ایک قول یاد آ گیا ہے جو آپ نے کئی صدیاں پیشتر فرمایا کہ حاشیه صفحه گزشتہ بھی ایک پلیٹ فارم اور ایک ہی موضوع پر بولنے کی دعوت دی جاتی تھی تا لوگ اسلام اور دیگر مذاہب کا باآسانی تقابلی مطالعہ کر سکیں۔(الفضل ، ظهور/ اگست ۳۶ ۳ ) : عاشی تعلقه صفحه هذا الفضل، ظور / اگست ۳۲ مٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا مقامات میں اس کا تبلیغی 71982 FINDA اجلاس منعقد کئے جاچکے تھے : سے چوہدری عبداللطیف صاحب انچارچ مبلغ جرمنی مشن کے خوب مورہ اور محبت سرمئی مار سے ماخونه