تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 83
۸۳ توڑے بہم محمود کے سپاہی بفضل خدا اس سومنات کے ثبت کو توڑیں گے، توڑیں گے۔اے خدا؟ ہمارے سہتھوڑے کو بھاری اور اس کی ضرب کو کاری بنا۔آمین۔اس سلسلہ میں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ پولیس والوں نے اپنی پوزیشن کو بیرونی دنیا کی نظروں میں محفوظ بنانے کے لئے ایک جعلی عذر کی آڑ لی اور کہا کہ چونکہ مرکز احمدیت اب میشن کے اخراجات برداشت نہیں کہ سکتا اسلئے آپ یہاں ٹھر نہیں سکتے۔اب یہ تو مستقبل بتائے گا کہ ہم ان کے اس باطل منذر کوکس طرح باطل ثابت کریں گے اور پولیس کو اس آخری دلیل کا سہارا بھی نہ ملے گا۔انشاء اللہ العزیز۔تاہم خاکسار اس امداد کو ریکارڈ کرنا چاہتا ہے جو اس نازک وقت میں ہماری کو احمدی بہن محترمہ محمودہ کی طرف سے ملی۔ان ایام میں ایک رقم کی ضرورت تھی جسے بطور ثبوت کے پیش کیا جا سکتا ( بوقت ضرورت کہ سلسلہ ہمارے اخراجات کا کفیل ہے محترم محمودہ نے کہا کہ ان کے پاس تین کندہ فرینک کی ایک رقم ٹیکس کی ادائیگی کے لئے موجود ہے میں کی فی الحال ضرورت نہیں چنانچہ یہ رقم لے کر اپنے نام پر بنک میں جمع کرادی گئی تا ہمارا کی مضبوط ہو جائے۔اس رقم کے ساتھ مریم محمودہ نے لکھا۔خدا آپ کی مدد کرے، خدا با لخصوص ایس موقعہ پر آپ کے ساتھ ہو یا اے مفسلسلہ سوئٹزرلینڈ میں اشاعت اسلام کا با قاعدہ کام مرد تبلیغی اجلاسوں کا نہایت مفید سلسلہ سے شروع ہوا جبکہ شیخ ناصر احمد صاحب نے تبلیغی اجلاسوں کا سلسلہ جاری کیا۔اس ضمن میں پہلا اجلاس صلح جنوری ها کو ایک ہوٹل کے کمرہ میں ۶۱۹۴۸ منعقد کیا گیا۔گو اس پہلے اجلاس کی حاضری تو بہت کم تھی مگر اس نئے تجربہ نے ملک میں تبلیغ کا ایک نیا رستہ کھول دیا ی حلقہ واقفیت میں وسعت پیدا ہوتی گئی اور اسلام میں لچسپی لینے والوں کی تعداد بھی ه الفضل در امان ماریچ هم به نه ملک عطاء الرحمن صاحب مجاهد فرانس کوه رفت / دسمبر بہ الله کے اجلاس میں شمولیت کا موقع ملا تو وہ اس کی کا میابی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور لکھا " اجلاس بفضلہ تعالیٰ خوب کامیاب تھا مغربی ممالک کی مذہب سے بے رغبتی اور اسلام سے تعصب کے پیش نظر حاضری غیر معمولی تھی الفضل در تبلیغ فروری ه ۳ ص) ان اجلاسوں کے لئے دعوت نامے بھیجوانے کے علاوہ اخبارات میں اعلان شائع کئے جاتے تھے۔اجلاس میں ۱۹۴۹ بالعموم پہلے شیخ ناصر حمد صاحب کسی اہم موضوع پر خطاب فرماتے پھر حاضرین کو سوالات کے ذریعہ اسلام سے متعلق مزد معلوتا حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا بعض اجلاسوں میں اسلامی لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔سال میں ایک بار دیگر مذاہب کے نمائندوں کو البقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر