تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 82 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 82

مصر وغیرہ ممالک سے واپس بلا لیں۔کہنے لگا ہمارے مشنوں اور آپ کے مشنوں میں فرق ہے میں نے کہا بہت اچھا، اور اس کا شکریہ ادا کر کے واپس آگیا۔مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ کاغذات تصدیق کے لئے بر آن دارالحکومت بھیجوائے ہوئے ہیں جہاں سے آخری احکام جاری ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے لوگوں میں ایک خاص قسم کی کچی پائی جاتی ہے جو شاید یورپ کے کسی اور ملک میں مفقود ہو۔وجہ اس کی یہ ہے کہ بوجہ مخصوص اور معلوم حالات کے یہ ملک ایک رصہ سے جنگوں سے محفوظ رہا ہے اور اس امر نے انہیں ایک بے جا فخر عطا کیا ہے اور یہ سمجھتے لگ گئے ہیں کہ ان کی ذاتی خوبیاں، ان کا حسن تدبیر اور نہ جانے کیا کچھ ان کے امن کی ضمات ہیں لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔ملک کے افراد میں اس غرور کی جھلک نمایاں ہے اور انانیت کے جذبہ کو ان کی اس حالت نے بہت تقویت دی ہے۔چنانچہ یہ لوگ اپنی انفرادی مرضی کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور ہمچو با دیگر نے نیست کا راگ الاپتے ہیں۔دوسری بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ یہاں کی پولیس جو غیر ملکوں سے متعلق ہے اس کے اختیارات بہت وسیع ہیں کیونکہ ان کا صیغہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت نہیں اس لئے یہ لوگ من مانی کارروائیاں کرتے ہیں۔اور غیر ملکیوں کے لئے قوانین بھی سخت ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ بسا اوقات پولیس نے اپنے اس رویہ کے باعث غیر ملکیوں کو خواہ مخواہ تکلیف پہنچائی ان پر اور تو کسی شعبہ حکومت کا اقتدار نہیں اس لئے انجام کا رفیڈرل کورٹ میں جا کر پولیس کے خلاف فیصلہ ہوا اور بیچارے غیر ملکیوں کے حقوق کی حفاظت ہوئی ہیں نے محسوس کیا کہ پولیس کے چھوٹے بڑے میں میرے خلاف مخالفت کی آگ لگی ہوئی ہے۔اسی تنگ دلی اور کم ظرفی سے یہاں کے چرچ کو خاطر خواہ حصہ ملا ہے۔وہ جنہوں نے صدیوں تک اپنے جھوٹے عقائد کے خلاف کوئی زبان ہلتی اور کوئی قلم چلتی نہ دیکھی تھی آج یہ کیا ہوا کہ اچانک ان کے " ایمان" کی جڑوں پر تب رکھ دیا گیا اور شیخ کے سپاہی قلم و زبان سے باطل کا بطلان کرنے لگے۔ان کے نزدیک تو ہمارا ایک سال کا عرصہ ہی ہمارے مشن کی تکمیل کے لئے کافی ہے۔وہ لوگ جن کے دلوں میں عیسی کی چھوٹی خُدائی کا بت ہے وہ کب برداشت کر سکتے ہیں کہ کوئی اس بت کو توڑے۔نہ صرف توڑے بلکہ بے دردی سے