تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 78 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 78

قادیان کے قافلوں کی بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ حضرت مصلح موعود بیشک مادی ذرائع کو کام میں لاتے مگر آپ کا توکل اور انحصار ہمیشہ خدا تعالیٰ کی ذات پر رہا۔اظت کیلئے صدقہ یہی صورت قادیان کے محصور احمدیوں کے لئے آپ نے اختیار فرمائی۔یعنی آپ کنوائے بھی بھجواتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ دعاؤں اور صدقات پر بھی زور دیتے تھے۔چنانچہ خود ہی بیان فرماتے ہیں :- میں جب قادیان سے آیا ہوں تو میں نے خیال کیا کہ جو لوگ وہاں بیٹھے ہیں ان کے لئے صدقہ دیتے رہنا چاہیئے۔چنانچہ جب تک آخری قافلہ نہیں آیا میں پچیس روپیہ روزانہ صدقہ دیتا تھا اور یہ ساڑھے سات سو ماہوار بنتا ہے۔جب قافلے آگئے اب سو روپے ماہوار صدقہ دیتا ہوں تا بخدا تعالے وہاں کے رہنے والوں کو محفوظ رکھے" لے 41904 خدا تعالے کی طر سے دی تم کرے بلا میں ماہ ظہور اگست سے مال میں قتل دخالت کا ایام جو بازار گرم ہوا تھا وہ ماہ تبوک استمبر میں انتہاء کو پہنچے احمدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک گیا۔لاکھوں مسلمان چھوٹے یا بڑے ڈیروں میں یا تو دہشت زدہ ہو کہ سکڑے بیٹھے تھے یا سڑکوں پر پاکستان کا رخ کئے جا رہے تھے ظلم و ستم کی حد یہ تھی کہ وہ ظالم حملہ آور جنہوں نے اُن کے گاؤں جلائے۔ان کی عورتوں کو بے آبرو کیا اور بچے کھچے بد نصیبوں کو بھگا دیا، اب بھی ان کا تعاقب کر کے ان کو رستے ہی میں تہ تیغ کر رہے تھے سکھ میدان کارزار میں نہایت مستند واقعات کی روشنی میں ان حملوں کا ذکر ہے جو انبالہ ، جالندھر، امرتسر ، فیروز پور اور جالندھر کے پیدل قافلوں پر کئے گئے اور جن میں بے شمار جانیں ضائع ہوئیں بہت سے مسلمان جن میں شیر خوار کم عمر بچے اور بوڑھی عورتیں اور مرد شامل تھے ، آتشین اسلحہ برچھیوں اور کم پانوں سے شدید زخمی ہوئے ہے له " الفضل " ۲۶ تبلیغ فروری میش (خطبه جمعه) صفحه ۶ کالم 1 کتاب " سکھ میدان کارزار میں “ کے اندر یہانتک لکھا ہے کہ ستمبر کے دوسرے ہفتہ میں سات ہزار مسلمان زیره (ضلع فیروز پور) سے پیدل روانہ ہوئے۔رستہ میں ان پر حملہ کیا گیا۔تمام جوان آدمی مار ڈالے گئے اور جوان عورتیں اُٹھالی گئیں۔دو ہزار سات سو اشخاص جن میں زیادہ تر بوڑھی عورتیں اور مرد تھے قریب