تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 77 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 77

66 رہے ہیں حالانکہ اس حادثہ کی وجہ سے ہمارے ایمان تو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔اول تو جس رنگ میں ہماری قادیان کی جماعت کے افراد دشمن کے جملوں سے محفوظ رہ کہ پاکستان پہنچے ہیں اس کی نظیر مشرقی پنجاب کی کسی اور جماعت میں نہیں ملتی جس طرح ہماری عورتیں محفوظ پہنچی ہیں جس طرح ہمارے مرد محفوظ پہنچے ہیں اور جس طرح بیسیوں لوگوں کے سامان بھی ان کے ساتھ آئے ہیں۔اس کی کوئی ایک مثال بھی مشرقی پنجاب میں نظر نہیں آسکتی۔نہ لدھیانہ کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے ، نہ بجالندھر کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے اور نہ فیروز پور کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے لدھیانہ اور بجالندھر کے قافلوں کے ساتھ فوجیں تھیں حفاظت کا سامان تھا مگر پھر بھی ان میں سے ہزاروں لوگ مارے گئے لیکن قادیان کے لوگوں کے ساتھ کوئی فوج نہیں تھی۔پھر بھی وہ سب کے سب سلامتی کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے۔اور پس اول تو یہی کتنا بڑا نشان ہے کہ ہزاروں افراد کی جماعت قادیان سے نکلی۔سلامتی کے ساتھ یہاں پہنچ گئی۔کوئی ایک مثال بھی تو میں نہیں کی جا سکتی جس میں مشرقانی کا یہی سلوک اور مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہو۔پھر چاہے بعض کو ٹھوکریں لگیں۔مگر یہ کتنا بڑا نشان ہے کہ ہماری انجمین کا اتنا بڑا محکمہ قادیان سے اٹھ کر لاہور آگیا اور یہاں آتے ہی چالو ہو گیا۔گورنمنٹ کے محکموں کے سوا کوئی ایک مثال ہی بتائی جائے کہ کسی جماعت کے وہاں اس قدر محکمے ہوں اور پھر وہ اُسی طرح آتے ہی پھل پڑے ہوں جس طرح پہلے چل رہے تھے۔یہ تو بالکل اللہ دین کے چراغ والی بات ہو گئی جس طرح اس چراغ سے آناً فاناً ایک محل تیار ہو جاتا تھا۔اسی طرح یہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا کہ قادیان سے احمدیت اُٹھی اور لاہور میں آکر قائم ہو گئی اور قائم بھی ایسی شان سے ہوئی کہ آج دنیا میں احمدیت کا نام جس قدر بلند ہے جس قدر عظمت اُسے حاصل ہے یہ بلندی اور عظمت اس له سے بہت زیادہ ہے جو اُسے قادیان میں حاصل تھی " لے " الفضل" ۱۳ احاد / اکتوبر له مش صفحه 4