تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 75
۷۵ کر شاندار اور اہم ہے کسی خوش فہمی کی بناء پر نہیں بلکہ دلائل کی بنار پر۔سفٹے (1) ڈنکرک میں وقتی طور پر بیشک دشمن کو غلبہ حاصل ہو گیا تھا۔اور اس کی طاقت زیادہ تھی مگر با وجود اس کے مقابلہ میں انگریز بھی بالکل بے دست و پا نہ تھے۔ان کے پاس بھی جنگ کا ہر قسم کا سامان موجود تھا۔جسے حتی الامکان انہوں نے استعمال کیا اور اس سے انہیں بیچ کر نکلتے ہیں بڑی مدد ملی لیکن یہاں یہ حالت تھی کہ اُدھر تو ہندو اور سکھ ملڑی کے پاس بندوقین بشین گئیں ، برین گنیں اور ہم تک تھے۔لیکن ادھر احمدیوں کے پاس لاٹھیاں بھی نہ تھیں اور الفاظ کے اصل مفہوم کے مطابق وہ بالکل خالی ہاتھ تھے۔پھر وہاں تو نرغے سے نکالنے کے بیسیوں ذرائع ان کے پاس تھے۔ہر قسم کے جہاز اور کشتیاں وغیرہ لیکن یہاں اس لحاظ سے بھی کچھ نہ تھا۔ہماری ذاتی اور سلسلہ کی کاریں ٹرک چھین لئے گئے۔گھوڑے، خچریں ، گدھے تک سیکھ ڈاکو دن دہاڑے جبراً لے گئے۔باہر آئے ہوئے پہنو گرمیوں کے لڈن کے بیل مڑی اور پولیس بندوقوں کے ذریعہ ہتیا کرلے گئی۔عرض قادیان میں رہنے والوں کی نقل و حرکت کے نہایت معمولی سے معمولی ذرائع کا بھی خاتمہ کر کے انہیں مکمل طور پر نرغہ میں لے لیا گیا۔ڈنکرک سے انگریزی اور سہندوستانی فوجوں کو نکالنے کا بیڑا ایک عظیم الشان حکومت نے اُٹھایا تھا۔اور یہ انتظام ایک وسیع سلطنت کے ہاتھ میں تھا۔لیکن قادیان کی جیت احمدیہ کے بچوں ، عورتوں اور مردوں کو سیلاب بلا سے بچانے کا کام انگلیوں پر کیئے جاسکتے والے چند افراد کے کمزور اور نحیف ہاتھوں میں تھا۔وہاں تریقے سے نکلنے والے جانباز جنگ جو اور بہادر سپاہی تھے جو جنگ کی صعوبتیں جھیلنے کے عادی اور خطرات میں سے گذرنے کے عادی تھے لیکن یہاں زیادہ تر کم سن حتیٰ کہ دودھ پیتے بچے، پردہ میں رہنے والی خواتین ، بیمار اور کمزور عورتیں اور مرد سکتھے جن کا اس قسم کے مصائب اور مشکلات میں سے گزرنا تو الگ رہا کبھی ان کے خیال میں بھی نہ آیا تھا۔ڈنکرک سے بیچ کر جانے والوں کے لئے ان کا اپنا وطن اور اپنا ملک اُلفت اور محبت کی گود پھیلائے اور اپنے ہم وطن اور عزیز اپنے سر آنکھوں پر بٹھانے کے لئے موجود تھے۔