تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 76 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 76

لیکن قادیان سے سب کچھ لٹا کر آنے والوں کے لئے ایک محدود سی جگہ نہیں ہو سکی تھی۔وہاں سے نکل کر آنے والوں کے لئے ہر قسم کے آرام و آسائش کے سامان یا افراط نہیں تھے لیکن یہاں بیٹھنے تک کے لئے جگہ کا میتر آنا بھی مشکل تھا اور کھانے پینے کے انتظامات میں شدید مشکلات حائل تھیں۔با وجود ان تمام مشکلات کے حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا کہ تمام کے تمام بیچتے، تمام کی تمام خواتین اور تمام کے تمام مرد بغیر کسی استثناء کے بخیر و عافیت اس سیل بلا سے نکل آئے۔راستہ کے تمام خطرات کو کامیابی سے عبور کر کے نکل آئے اور کسی ایک جان کے نقصان کے بغیر ہزاروں انسان نکل آئے۔حالانکہ وہ مسلسل ایک ایسے عرصہ تک گھروں پر رہتے ہوئے خوف و خطر میں گھرے رہے۔پھر گھروں سے باہر نکالے بھانے کے بعد کئی دنوں تک بھان اور آبرو کے خطرہ میں مبتلا رہے شمنوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ خطرات اور مصائب سے بچ کر نکلنے کے تمام راستے مسدود کردے۔پھر ہزاروں بچوں اور عورتوں کو قادیان کی آخری رات کھلے میدان میں ہندو سیکھ مڑی اور پولیس اور گرد و نواح کے ڈاکو اور لٹیرے سکھوں کے شدید نرغہ میں گزارنی پڑی پھر رستہ کا چپہ چپہ خطرات سے پُر تھا اور جابجا ظالم اور کمینہ صفت دشمنوں کے مظالم کے نشانات قبروں کی شکل میں موجود تھے لیکن خدا تعالیٰ نے حضرت امیر المومنین خلیفہ ایسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ذریعہ جماعت پر اتنا عظیم الشان فضل کیا کہ اس نے ان تمام خوفناک مراحل کو بغیریت عبور کر لیا۔" نے قادیان کی جماعت کا بحفاظت پاکستان مندجہ بالا واقعات پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتا میں آنا اعجازی نشان ہے چنداں شک نہیں کہ قادیان کی احمدی خواتین اور احمدی بچوں کا بحفاظت پاکستان میں آجانا سید نا الصلح الموعود کا ایک عظیم کارنامہ ہے جو دنیا میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔سید نا فرماتے ہیں :- ہمارا قادیان سے آتا ہی لے لو۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ اسی وجہ سے ٹھوکریں کھا له و الفضل ا فتح ا دسمبر مش صفره۔