تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 74
4N حضرت امیر المؤمنین تعلیقہ السیح الثانی ایک اللہ تعالٰی نے بیحد و حساب مشکلات اور روکاوٹوں کے دوران میں قادیان کے ہزاروں بچوں، عورتوں اور مردوں کو قادیان سے نکالنے کا جو انتظام فرمایا وہ اتنا شاندار اور اس قدر کامیاب تھا کہ اس کی مثال سارے مشرقی پنجاب میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔اس انتظام کی کامیابی کا ثبوت اس سے بڑھ کہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کی پابندی کرنے والے اور اس کے ماتحت قادیان سے آنے والے ہزارہا نفوس میں سے خطرات اور خدشات سے پر طویل راستہ میں نہ تو کوئی ایک بھی متنفس ضائع ہوا اور نہ ظالم اور جفا کار سکھوں کے ہاتھ پڑا۔حالانکہ راستہ تو الگ رہا خود قادیان میں ہندو فوج سند و پولیس اور سیکھ لٹیروں اور قاتلوں کے جتھوں کی یہ حالت تھی کہ جس کو چاہتے بے دریغ اور بلا وجہ گولیوں کا نشانہ بنا دیتے۔جسے چاہتے بلا خوف و خطر لُوٹ لیتے اور دن دہاڑے دیہاتی پناہ گزینوں کے مجمع میں گھس کر عورتوں کو اٹھا لے جاتے اور مزاحمت کرنے والوں کو گولیوں یا کو پانوں سے موت کے گھاٹ اتار دیتے۔ان حالات میں کئی دنوں تک گھری ہوئی قادیان کی احمدیہ جماعت کی ہزاروں عورتوں، بچوں اور مردوں کو ایک بھی جان کے ضائع یا گم ہونے کے بغیر درندہ صفت دشمنوں کے پنجۂ ستم سے نکال کو صحیح سلامت منزل مقصود تک لے جانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔میں تو قادیان میں بیٹھا ہوا ہوں جوں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس انتظام کو اور اس کی کامیابی کو دیکھتا اس کی مثال ڈھونڈھنے سے قاصر ہوتا جاتا۔میرے دماغ میں موت اور تباہی کے نہایت وسیع طوقان سے انسانوں کو بچا کر محفوظ مقام پر پہنچانے کی بڑی سے بڑی مثال ڈنکرک کے واقعہ کی آئی جبکہ گذشتہ جنگ عظیم کے دوران میں انگریزی اور ہندوستانی بہت بڑی سپاہ اس مقام پر جرمنی کی قہرمانی نوجوں کے گھیرے میں گھر گئی تھی اور انگریزوں نے اپنی تمام مساعی اس کو نکال کر لے جانے میں صرف کر دی تھیں۔آخر بہت بڑا جانی و مالی نقصان برداشت کر کے میں قدر جانوں کو بھی انگریز بیچا کر لے جانے میں کامیاب ہوئے اسے بہت بڑا کارنامہ سمجھا گیا اور فی الواقعہ یہ بڑا شاندار کارنامہ ہی تھا۔لیکن میری منگلہ میں قاریان سنے بچوں عورتوں اور آخر میں مردوں کو موت کے منہ سے نکال کر لے بھانے کا واقعہ اس سے بھی بڑھ