تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 64 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 64

۲۴ اور اس کے لئے ہم قریباً مجنونانہ جد وجہد کے ساتھ دن رات لگے ہوئے تھے یعنی کہ ایک دن میں نے انتہائی بے بسی کی حالت میں حضرت صاحب کو خط لکھا کہ ہمارے ارد گرد خطرہ کا دائرہ بڑی سرعت کے ساتھ تنگ ہوتا جا رہا ہے اور آپ کی ہدایت یہ ہے کہ کسی صورت میں بھی حکومت کا مقابلہ نہ کیا جائے ( اور حکومت کا مقابلہ ہماری تعلیم کے بھی خلاف ہے اور ہماری طاقت سے بھی یا ہر گر حق یہ ہے کہ اس وقت سیکھ سمجھتے اور حکومت گویا ایک بھون مرکب بنے ہوئے ہیں۔اور ایک کو دوسرے سے جدا رکھنا مشکل ہے، اور آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ مومن کی جان کو حتی الوسع بچاؤ کیونکہ ضائع شدہ جائدادیں اور سامان تو پھر بھی مل جائیں گے مگر مومنوں کی ضائع شدہ جائیں جو گویا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے ہیں پھر نہیں ملیں گے۔تو اب مجھے بتائیں کہ میں ان ہزاروں ننگ و ناموس رکھنے والی عورتوں کے متعلق جو قادیان میں موجود ہیں ، کروں تو کیا کروں۔مال کے مقابل پر بیشک قیمتی جان بچائی جا سکتی ہے اور مومن کی بھان واقعی بہت بڑی چیز ہے۔مگر کیا میں اپنی آنکھوں کے سامنے احمدی عورتوں کے ننگ وناموس کو خطرہ میں ڈال دوں اور سامنے سے ہاتھ نہ اُٹھاؤں حضر صاحب نے مجھے تسلی کا خط لکھا اور بعض ہدایتیں بھی دیں اور فرمایا کہ ہمیں ان مشکلات کو سمجھتا ہوں۔مگر ادھر ہم زیادہ سے زیادہ ٹک بھیجوانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔دگو پاکستان حکومت کے پاس ٹرک محدود ہیں اور اس نے سارے مشرقی پنجاب میں سے مسلمانوں لے حضرت میاں صاحب نے مفوضہ ذمہ داریوں کی بجا آوری کے لئے ایک نہایت عمدہ نظام قائم کر رکھا تھا اور مختلف سر بر آوردہ اصحاب کو اپنے نائب کی حیثیت سے مختلف کام سپرد کر دیئے تھے۔اس تعلق میں آپ نے ہار نبوت نومبر کو حضور کی خدمت میں لکھا کہ " میرے ساتھ نائب کے طور پر ملک غلام فرید صاحب اور مرزا عبد الحق صاحب اور عبد الحمید صاحب دراجہ اور دوسرے بھی دوست لگے ہوئے ہیں اور بچے بھی ہاتھ بٹاتے رہتے ہیں۔اکثر اوقات رات کے دو تین بجے تک اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ کام ہوتا ہے۔اسی طرح حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کو اطلاعدی کہ ” قادیان میں ٹاک کی وصولی اور روانگی کے متعلق میں نے عزیز مرزا وسیم احمد صاحب کو مقرر کیا ہے۔۔۔۔۔۔موقع پر شیخ مبارک احمد صاحب یا میاں ناصر احمد صاحب یا چوہدری محمد علی صاحب یا چوہدری ظہور احمد صاحب وصول کرتے ہیں اور پھر آگے میرے پاس بھجوا دیتے ہیں اور پھر میری نگرانی میں عزیز وسیم احمد صاحب کھول کر تقسیم کروا دیتے ہیں" (مکتوب و تبوک اش)