تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 477
پیارے بچو! بسم الله ارحمن الرحیم السلام علیکم و رحمة الله وبر کا نا۔تم لوگوں کا پیغام محمدعبداللہ دیا۔قادیان کے خطرناک حالات معلوم ہوئے تمر و روی غلطی کی ہوئی ہے کہ گویا ہم کچھ کر سکتے ہیں لیکن کرتے نہیں حقیقت یہ ہے کہ ہم بھی اورحکومت بھی بے نہیں ہیں اب سب کچھ اللہ تعالی کے اختیار میں ہے۔دہی کچھ کر سے لگا تو کرے گا۔ہم نے دو کروائے بھجوائے تھے ایک پر نہیں ٹرک کا اور ایک تین کا اگر وہ آجاتے تو قریبا سب صورتیں نکل آئیں پھر تمارا بوجھ ہلکا ہوجاتا مگر اکو بٹالہ سے واپس کر دیا گیا ور ایک ان پر مل بھی کیا گیا کروی و دوی مارا گیا۔سپاہی بھی کچھ ہار گئے۔اصل میں ہم تو اسی وقت کچھو گئے تھے کہ یہ ردک قادیان کو فنا کرنے کیلئے ہے۔العیاذ باللہ۔تم لوگوں کے کھانے کی تکلیف کالم بھی ہو اللہ حال ہی اسکا علاج کر سکتا ہے۔ڈی سی گورداسپور نے مظفر سے وعدہ کیا تھا کہ خود جا کر قادیان کے حالات دیکھے گا۔مگر معلوم نہیں کہ گیایا نہیں اور کچھ کیا یا نہیں۔جنرل کریا پا نائب کمانڈر انچیف کو آج ملے استایے بہ ظاہر ہمدردی کا اظہار کیا اور اسکی رویہ سے معلوم ہوتا تھا کہ ہ خودبھی شاید قادیانی جائے۔ابھی اطلاع ملی ہے کہ قادیان کو ریفیوجی کیمپ نانے کیلئے دہلی کو دونوں حکومتوں کے نمائندے وائر لیس کر رہے ہیں اگر ایسا ہوا تو شاید کلان ملٹری بھی لگ جائے اور کم سے کم حکومت کی ذمہ داری ہی بڑھ جائے اور غذا کی ذمہ داری بھی بڑھ جائے۔بہرحالی استعمال سے جمے رہو۔جب تم لوگ خدا کی راہ میں شہید ہونے کیلئے بیٹھے ہوتو پھروں کو دل میں آنے دینے کے معنے ہی کیا ہوئے جو شخص خداتعالی کے راستہ میں قربان ہونے کیلئے بیٹھا ہوا ہے پر کسی قسم کے انجام کا ڈر نہیں ہوتا کیو کر موت کے بعد ادر کو نسا خطرہ رہ جاتا ہے مجھے تو عورتوں کا ذکر ہے خدا کے عورتوں کی مار ہوا ہے۔مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اپنے حوصلے کو بلند رکھو اگر دین کی اشاعت کا خیال نہ ہوتا اور مجھ سے اشاعت اسلام کا کام وابستہ نہ ہوتا علیہ وسلم کے سب خاندان نے بھو کے پیاسے رہ کہ ثابت قدمی سے آخر دم تک لڑائی کی اور بے جان دیدی تمہاں خطرہ ان کا نہیں آخر یہ سلسلہ خداتعالی کا ہے اور وہ ضرور اپنی قدرت دکھائیگا۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا الہام ہے۔یرید الله لیذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ اهْلَ البَيْتِ وَيُظْهِرَكُمْ تَظمیرا۔شاید یہ وہی اسکا ہے۔اللہ تعالے اس ابتداء میں ڈال کر ہمارے خاندان کے گناہوں کو جو بہت بڑے ہیں معاف کر دے گا۔یا شہادت دیکر انکو دھو دے گا۔اور آئندہ سلسلہ کی زندگی کا اسے ایک ذریعہ بنا دے گا۔ہم لوگ بھی خواہ سے باہر نہیں۔پاکستان بخت خطرہ میں ہے اوراللہ تعالی بہت جاتا ہے کہ نہ کیا ہوگا اور یہ کہ میں چو عمر کیلئے احمدیت کا مرکز ہندوستان سے باہر تو نہیں لے جانا پڑیگا۔مگر اس صورت میں شاید مجھے بھی شہادت کا ہی راستہ اختیار کرنا پڑیگا۔اور شاید یہ کام اللہ تعالی کسی اور سے لے۔ر اس وقت ساری دنیا کی نظریں تم لوگوں پر ٹیک پر دشمن تک حیرت سے تم لوگوں کے استقلال اور قربانی کو دیکھ رہا ہے اور تمہاری