تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 447
سنائی۔پھر دس بجکر سینتالیس منٹ سے ساڑھے گیارہ بجے تک مولوی غلام مصطفی صاحب فاضل برو لہری نے نہایت عمدگی سے " حضرت مسیح موعود کے کارنامے " کے عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پھر مولوی نظام احمد صاحب رشد نے قرآن مجیدکی پیشگوئیاں اس زمانہ کے بار میں کے موضوع پر سو بارہ بجے تک فاضلانہ تقریر کی۔آپ کے بعد بشير احمد صاحب گویز انوالہ نے متحدہ ہندوستان کے آخری سالانہ جلسہ انہ مہیش کے موقعہ کی حضرت مصلح موعود کی نظم 6 املہ کے پیاروں کوتم کیسے بڑا مجھے خوش الحانی سے سنائی۔نظم کے بعد مودی مد ابراہیم " 11 صاحب قادیانی نے عہد حاضر سے متعلق حضرت مسیح موعود کی بعض پیشگوئیاں بیان کیں۔اس تقریر کے بعد جواس لتوی ہوا ہے اجلاس دوم - " سے قبل مولوی غلام احمد صاحب الہ شہر نے سورہ یوسف کا پہلا رکوع قلادت کیا۔پھر حافظ عبد الرحمن صاف پیشاوری نے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی مدح میں ایک نظم پڑھی۔انا بعد ملک صلاح الدین صاحب ایم کی فصل تقریہ حضرت مسیح موعود اور آپ کے خدام کا غیر مسلموں سے سلوک کے عنوان پر ہوئی۔آپ کے بعد مکرم مولوی شریعیت احمد صاحب امینی نے ۵۸ - ۲ سے پون گھنٹہ تک تقریر فرمائی میں میں اسلام اور آنحضرت صلی ال کی تعلیم رداد اری دغیرہ کے متعلق غیرمسلموں کی آراء کا بھی تذکرہ کیا۔ا عليكم اسی تقریر کے بعد جلسہ میں موجود ہو ہندو سکھ دوستوں میں ارجن سنگیر صاحب عاجز ایڈیٹر اخبار رنگین ار قم کی کتاب سمیر قادیان " کے نسخے تقسیم کئے گئے۔اس کارروائی کے بعد بشیر احمد صاحب آن گوجرانوالہ امرتسر۔آن نے حضرت امام امید اللہ تعالی کی نظم " تعریف کے قابل ہیں یا رب تیرے دیوا نے " سنائی۔پھر قریشی عبدالرشید صاحب آڈیٹر صدرانجمن احمدیہ نے پچیس منٹ تک تحریک جدید کے قیام کی اہمیت " پر تقریر کی۔اور یہ اجلاس سوا چارہ بجے اختتام پذیر ہوگا۔۲۸ فتح دسمبر (اجلا اقول ) - حسب سابق یہ اجلاس بھی حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل کی صدارت میں شروع ہوا۔سب سے پہلے آپنے احباب کمیت دعا کی۔پھر مولوی غلام احمد صاحب ارشد نے سورہ مریم کے دوسرے رکوع کی تلاوت کی۔پھر جناب حافظ عبدالرحمن صاحب پشاوری نے نظم پڑھی۔آپ کے بعد چوہدری سعید احمد صاحب بی۔اسے نے له الفضل در صبح اسنوری سینه اش مت در رپورٹ مرتبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے ) و